
بلوچستان حکومت نے ڈاکٹروں کی ہڑتال کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں فوجی ڈاکٹر بلانے کے لیے ہدایات جاری کئے
بلوچستان حکومت نے ڈاکٹروں کی ہڑتال کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے فوجی ڈاکٹروں کے خدمات حاصل کر نے کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔
بلوچستان کے وزیر صحت عین اللہ شمس نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم خان رئیسانی اور چیف سیکریٹری نے محکمہ داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں فوجی ڈاکٹروں کی تعیناتی کے لیے متعلقہ حکام سے بات کریں۔
کوئٹہ کی انتظامیہ نے پیر کے روزاحتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے متعدد نجی کلینکس کو سیل بھی کر دیا۔
بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات پہلے سے نہ ہونے کے برابر تھیں لیکن ڈاکٹروں کی ہڑتال اور احتجاج کے باعث لوگ شدید مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں۔
بلوچستان کے ڈاکٹروں نے ممتاز ماہر چشم ڈاکٹر سعید خان کے اغواء کو ایک ماہ گزرنے کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز کے سوا باقی تمام سروسز کو بند کر دیا تھا ۔
ان کے اغواء سے قبل بھی ڈاکٹر اپنے دیگر ساتھیوں کے اغوا اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے خلاف ہڑتال پر تھے لیکن اس وقت انہوں نے سپریم کورٹ میں حکومت کی اس یقین دہانی کے بعد ہڑتال کو ختم کیا تھا کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
لیکن ڈاکٹر سعید خان کے اغوا کے بعد نہ صرف ڈاکٹر ایک ماہ سے زائد کے عرصے سے دوبارہ ہڑتال پر ہیں بلکہ انہوں نے پیر کوگرفتار یوں اور پولیس کی جانب سے تشدد کے واقعات کے بعد اپنی احتجاج کو وسعت دیتے ہوئے مطالبات تسلیم ہونے تک سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز کو بند کرنے کے علاوہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی کام کرنے کا سلسلہ بند کرنے کا اعلان کیا۔
پولیس نے ریڈ زون میں جلسے اور جلوس پر پابندی کی خلاف ورزی پر اکہتر ڈاکٹروں کو گرفتار کر لیا۔
کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (بلوچستان چیپٹر) کے رہنماڈاکٹر شہزاد داؤد نے کہا کہ اب تک بلوچستان میں چھبیس ڈاکٹر قتل اور درجنوں اغوا ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ڈاکٹروں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے جس کے باعث ڈاکٹر احتجاج پر مجبور ہیں۔
احتجاج میں شدت آنے کے بعد کوئٹہ کی انتظامیہ نے ان ڈاکٹروں کے کلینکس کو سیل کردیا جو کہ احتجاج پر ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ طارق مینگل نے میڈیا کو بتایا کہ ان ڈاکٹروں کے نجی کلینکس کو سیل کیا جا رہا ہے جو سرکاری ہسپتالوں میں ڈیوٹی نہیں دے رہے ہیں لیکن اپنے پرائیویٹ کلینکس پر کام کر ہے ہیں۔






























