
امن لشکر کے سربراہ مکمل شاہ کے مطابق ان کا لشکر ابتدائی لشکروں میں شامل تھا اور اس کے قیام کے بعد سے پشاور میں حملوں میں کمی واقع ہونا شروع ہو گئی تھی
پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخواہ کے بعض شہری علاقوں میں قائم امن لشکروں کا کردار اب تبدیل کیا جا رہا ہے اور اس کی ابتدا پشاور کے مضافات میں بڈھ بیر کے علاقے سے کر دی گئی ہے۔
بڈھ بیر امن لشکر کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ان سے مسلح گارڈز واپس لے لیے گئے ہیں لیکن پولیس حکام کے مطابق انہیں غیر مسلح نہیں کیا گیا بلکہ ضرورت کے مطابق لشکر کے کردار میں تبدیلی لائی گئی ہے۔
پشاور کے مضافات میں بڈھ بیر امن لشکر کی ایک شاخ ٹپہ مہمند کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ اس امن کمیٹی کے سربراہ مکمل شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سکیورٹی گارڈز واپس کر دیے جائیں۔
’ ہمیں اعلیٰ افسران نے اب تک کچھ نہیں کہا صرف تھانے کی حد تک بتایا گیا ہے کہ اپنے محافظ واپس کردیں لیکن ہمیں معلوم نہیں ایسا کیوں کیا گیا ہے؟ ہمیں بے یارود مدد گار چھوڑ دیا گیا ہے‘۔
پانچ سال پہلے سنہ دو ہزار سات میں جب شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا تھا تو انہی دنوں پاکستان کے قبائلی علاقوں اور شہری علاقوں میں مقامی سطح پر امن لشکر قائم کیے گئے تھے۔ آغاز میں یہ لشکر قبائلی دفاعی نظام کی روایات کے مطابق قائم کیے گئے تھے۔
" ہمیں اعلی افسران نے اب تک کچھ نہیں کہا صرف تھانے کی حد تک بتایا گیا ہے کہ اپنے محافظ واپس کردیں لیکن ہمیں معلوم نہیں ایسا کیوں کیا گیا ہے ہمیں بے یارود مدد گار چھوڑ دیا گیا ہے۔"
امن لشکر سربراہ مکمل شاہ
امن لشکر کے سربراہ مکمل شاہ کے مطابق ان کا لشکر ابتدائی لشکروں میں شامل تھا اور اس کے قیام کے بعد سے پشاور میں حملوں میں کمی واقع ہونا شروع ہو گئی تھی۔
مکمل شاہ نے بتایا کہ عوام کی حمایت کے بغیر حکومت یا فورسز نہ تو کوئی چوکیاں قائم کر سکتے ہیں اور ناں ہی امن قائم کر سکتے ہیں کیونکہ ماضی میں اس طرح کے تجربات ناکام رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں بونیر، باجوڑ ایجنسی میں سلارزئی، اورکزئی ایجنسی، درہ آدم خیل اور بڈھ بیر میں امن لشکر قائم کیے گئے تھے۔ اس کے بعد حکومت یا سکیورٹی اداروں کی جانب سے سوات، وزیرستان، مہمند ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں امن لشکر قائم کیے گئے جنہیں حکومت کی حمایت حاصل تھی۔
اب یہ اطلاعات ہیں کہ ان میں سے بعض امن لشکروں کو ختم کیا جا رہا ہے لیکن پشاور میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان کے تعاون کا طریقہ اب تبدیل کیا جا رہا ہے۔
سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس پشاور عمران شاہد کے مطابق ان امن لشکروں کی اپنی اہمیت ہے اور انہوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں جس سے وہ انکار نہیں کرتے۔
انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اب ضرورت کے مطابق ان کے کردار میں تبدیلی لائی گئی ہے اور اب یہ لشکر انہیں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع دیں گے اور دیگر کاموں میں حکومت اور فورسز کی مدد کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ ان لشکروں کو غیر مسلح کیا جا رہا ہے فورس میں جو معمول کی تبدیلیاں کی جاتی ہیں وہی کی گئی ہیں۔
عمران شاہد کا کہنا ہے کہ اب کشیدیگی قبائلی علاقوں کی سرحد پر بڑھ گئی ہے اور ان مقامات پر اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایف آر پشاور اور قبائلی علاقوں کی سرحد کے قریب کوئی دو ہزار پولیس اور فرنٹیئر کانسٹبلری کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ کوئی دو درجن نئی چوکیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔ان امن لشکروں کے رضا کاروں پر بڑے حملے بھی کیے گئے ہیں جن میں بڑی تعداد میں ان کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
عمران شاہد کے مطابق اکثر علاقوں میں عام شہریوں نے امن لشکر میں شمولیت پر سخت تنقید بھی کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ انہیں خطرات میں ڈالا جا رہا ہے جبکہ ایسی اطلاعات ہیں کہ بعض علاقوں میں امن لشکروں نے ذاتی مفادات کے لیے بھی کوششیں کی لیکن سرکاری سطح پر اس کی کہیں تصدیق نہیں ہو سکی۔
پانچ سال پہلے جب یہ لشکر قائم کیے گئے تھے اس وقت انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر کڑی تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن اب مبصرین کہتے ہیں کہ امن لشکروں نے شدت پسندوں کے بڑے حملے روکے ہیں۔






























