کراچی کو اسلحہ سے پاک کریں، سینیٹ میں قرار داد

آخری وقت اشاعت:  منگل 20 نومبر 2012 ,‭ 02:06 GMT 07:06 PST

پاکستان کے سینیٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لیے ضروری اقدامات کئےجائیں

پاکستان کے سینیٹ نے ایک قرار داد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق کراچی میں موجودہ امن وامان کی خراب صورت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ قرار داد عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر شاہی سید نے اپریل میں پیش کی تھی جسے اکثریت سے پیر کو پاس کیا گیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق ایم کیو ایم کے سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے قرارداد کی مخالفت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ صرف کراچی نہیں پورے پاکستان کو اسلحہ سے پاک کیا جائے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے شاہی سید نے کہا کہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لیے حکومت ضروری اقدامات کرے جبکہ سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ پولیس کراچی میں امن و عامہ قائم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

ایم کیو ایم کے سینیٹر مصطفٰی کمال نے کہا کہ روزانہ بے گناہ لوگوں کو ہلاک کیاجاتا ہے کراچی کو اسلحہ کی ترسیل بند ہونی چاہیے جبکہ بابر غوری نے کہا کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے ہمیں دہشت گردی کا مقابلہ کرناچاہیے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نون کے سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ رمضان اور محرم کے مہینوں میں امام بارگاہوں اور مسجدوں میں لوگ ہلاک ہوتے رہے لیکن ان کو سکیورٹی مہیا نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ عام لوگ نہ شیعہ ہیں اور نہ سنی لیکن مفاد پرست ٹولا انھیں تقسیم کرتا ہے۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ اے این پی اور ایم کیو ایم مل بیٹھ کر کراچی کے مسئلے کا حل نکالے۔

دوسری طرف نیشنل پارٹی کے حاصل بزینجو نے کہا کہ کراچی میں کوئی سیاسی جماعت عسکری شاخ کے بغیر کام نہیں کر سکتی۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ڈی جی رینجر نے سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کو بتایا کہ کراچی میں بڑی سیاسی جماعتوں کی عسکری شاخیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مقامی حکومتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے کراچی کی صورت حال بگڑ گئی ہے۔

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما خورشید نے کہا ہے کہ کراچی میں امن و امان بحال کرنے کے لیے یکساں اپریشن کیا جا سکتا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کراچی میں حالات قابو میں لانے کے لیے یکساں کارروائی زیر غور ہے جس کی حمایت ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی نے بھی کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ تاہم یہ طے نہیں ہوا کہ کس قسم کی کارروائی کی جائے گی جس سے کم سے کم نقصان ہو۔

مقامی میڈیا کے مطابق اے این پی کے سینیٹر حاجی محمد عدیل نے کراچی کی خراب امن و امان کی صورت حال پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ کراچی کی امن وعامہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کے فیصلے کی حکام نے حکم عدولی کی ہے۔

انھوں نے سپریم کورٹ میں سندھ کے چیف سیکرٹری ، داخلہ سیکٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دی ہے۔

.

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>