
پاکستان کے سینیٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لیے ضروری اقدامات کئےجائیں
پاکستان کے سینیٹ نے ایک قرار داد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق کراچی میں موجودہ امن وامان کی خراب صورت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ قرار داد عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر شاہی سید نے اپریل میں پیش کی تھی جسے اکثریت سے پیر کو پاس کیا گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق ایم کیو ایم کے سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے قرارداد کی مخالفت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ صرف کراچی نہیں پورے پاکستان کو اسلحہ سے پاک کیا جائے۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے شاہی سید نے کہا کہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لیے حکومت ضروری اقدامات کرے جبکہ سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ پولیس کراچی میں امن و عامہ قائم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔
ایم کیو ایم کے سینیٹر مصطفٰی کمال نے کہا کہ روزانہ بے گناہ لوگوں کو ہلاک کیاجاتا ہے کراچی کو اسلحہ کی ترسیل بند ہونی چاہیے جبکہ بابر غوری نے کہا کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے ہمیں دہشت گردی کا مقابلہ کرناچاہیے۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نون کے سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ رمضان اور محرم کے مہینوں میں امام بارگاہوں اور مسجدوں میں لوگ ہلاک ہوتے رہے لیکن ان کو سکیورٹی مہیا نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ عام لوگ نہ شیعہ ہیں اور نہ سنی لیکن مفاد پرست ٹولا انھیں تقسیم کرتا ہے۔
پیپلز پارٹی کی سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ اے این پی اور ایم کیو ایم مل بیٹھ کر کراچی کے مسئلے کا حل نکالے۔
دوسری طرف نیشنل پارٹی کے حاصل بزینجو نے کہا کہ کراچی میں کوئی سیاسی جماعت عسکری شاخ کے بغیر کام نہیں کر سکتی۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ڈی جی رینجر نے سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کو بتایا کہ کراچی میں بڑی سیاسی جماعتوں کی عسکری شاخیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مقامی حکومتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے کراچی کی صورت حال بگڑ گئی ہے۔
دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما خورشید نے کہا ہے کہ کراچی میں امن و امان بحال کرنے کے لیے یکساں اپریشن کیا جا سکتا ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کراچی میں حالات قابو میں لانے کے لیے یکساں کارروائی زیر غور ہے جس کی حمایت ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی نے بھی کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ تاہم یہ طے نہیں ہوا کہ کس قسم کی کارروائی کی جائے گی جس سے کم سے کم نقصان ہو۔
مقامی میڈیا کے مطابق اے این پی کے سینیٹر حاجی محمد عدیل نے کراچی کی خراب امن و امان کی صورت حال پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ کراچی کی امن وعامہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کے فیصلے کی حکام نے حکم عدولی کی ہے۔
انھوں نے سپریم کورٹ میں سندھ کے چیف سیکرٹری ، داخلہ سیکٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دی ہے۔
.






























