کراچی میں بین الاقوامی دفاعی نمائش

آخری وقت اشاعت:  بدھ 7 نومبر 2012 ,‭ 17:08 GMT 22:08 PST

پاکستان میں یہ نمائش سنہ دو ہزار سے شروع کی گئی جو ہر دو سال کے بعد منعقد کی جاتی ہے

پاکستان کے شہر کراچی میں بین الاقوامی دفاعی نمائش کا آغاز ہوگیا ہے جس میں ٹینک، توپیں اور دیگر اسلحہ نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔

دریں اثناء انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس نمائش کے باعث سکیورٹی انتظامات نے لوگوں کے معمولات زندگی بھی متاثر کیے ہیں۔

کراچی کے علاقے گلشن اقبال جائیں تو فوج، رینجرز اور پولیس کے اہلکار اپنے ہاتھوں میں بڑی بڑی بندوقیں لیے سڑک اور عمارتوں پر جا بجا چوکس کھڑے نظر آتے ہیں، ان کی گاڑیاں بھی گشت پر ہیں۔

یہ ماحول کسی فوجی آپریشن کا سا لگتا ہے چونکہ اس علاقے میں آلاتِ حرب کی ساتویں بین الاقوامی نمائش جاری ہے اور یہ ایک فوجی نمائش ہے اس لیے اس کی سکیورٹی کے لیے علاقہ فوج زدہ نظر آ رہا ہے۔

گلشن اقبال، کراچی کا گنجان آباد علاقہ ہے جہاں ایکسپو سینٹر بھی واقع ہے اور اسی مقام پر سات نومبر کو آلاتِ حرب کی نمائش کا آغاز ہوا ہے جو گیارہ نومبر تک جاری رہے گی۔

اس نمائش کو آئیڈیاز یا انٹرنیشنل ڈیفنس ایگزیبیشن اینڈ سیمینار کا نام دیا جاتا ہے جس کا عنوان ’ آرمز فار پیس‘ یعنی ’امن کے لیے ہتھیار‘ ہے۔

اس نمائش کا افتتاح وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کیا ہے۔ اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے کہا کہ آئیڈیاز دو ہزار بارہ کا مقصد ایسا فورم مہیا کرنا ہے جہاں عالمی امن کے خواہاں ممالک سکیورٹی کے اہم اور دوطرفہ تعاون کے پہلوؤں پر بات چیت کر سکیں۔

ان کے بقول آئیڈیاز دو ہزار بارہ مشترکہ تعاون، قومی اور بین الاقوامی افواج کو کسی ایکشن کے لیے مطلوب آلات پر بحث مباحثے کے لیے ایک مثالی فورم تصور کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں یہ نمائش سنہ دو ہزار سے شروع کی گئی جو ہر دو سال کے بعد منعقد کی جاتی ہے۔

کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کا مطالبہ

اس سال کراچی میں فرقہ وارانہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے: زہرہ یوسف

نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق کراچی میں جہاں ایک جانب جنگی ساز و سامان کی نمائش جاری ہے وہیں دوسری جانب شہر کو اسلحہ سے پاک کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اس سال شروع کے آٹھ ماہ کے دوران کراچی میں ایک ہزار سات سو پچیس افراد کو قتل کیا جا چکا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی سربراہ زہرہ یوسف نے دفاعی نمائش کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ایک المیہ ہے کہ کراچی شہر میں اتنے بڑے پیمانے پر اسلحہ کی ترغیب دی جا رہی ہے اور اس سے ان لوگوں کے لیے انتہائی غلط پیغام جاتا ہے جو اسلحہ کے کاروبار یا اس کو پھیلانے میں متحرک ہیں۔

انہوں نے موجودہ حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا ’ایک طرف تو یہ حکومت دفاعی اسلحہ کی فروخت کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور دوسری جانب یہ کراچی میں اسلحہ کے پھیلاؤ پر قابو پانے اور امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہے‘۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی سربراہ زہرہ یوسف کہتی ہیں کہ اس سال کراچی میں فرقہ وارانہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

آلات حرب کی اس نمائش کے باعث سکیورٹی کے انتظامات نے علاقے کے معمولات زندگی متاثر کیے ہیں، ایکسپو سینٹر کے قرب و جوار کے بازار اور دکانیں بند ہیں۔جبکہ شہر کی بڑی آبادی کا گذر ان ہی سڑکوں سے ہوتا ہے جو سکیورٹی کی وجہ سے ٹریفک کے لیے بند کردی گئی ہیں جس سے لوگوں کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>