’کراچی میں ہر پروفیشنل بھتہ دے رہا ہے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 24 اکتوبر 2012 ,‭ 13:05 GMT 18:05 PST

نوگو ایریا پہلے کی طرح نہیں ہیں مگر اب لسانی اور سیاسی بنیادوں پر یہ تقسیم ہے: جسٹس انور ظہیر

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کراچی میں ہر پروفیشنل بھتہ دے رہا ہے اور جو بھی قانون بنائے جا رہے ہیں وہ بڑے لوگوں کے لیے ہیں جبکہ غریب تو پیدا ہی مرنے کے لیے ہوا ہے۔

بدھ کو جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس عارف حسین خلجی، جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل بینچ نے گذشتہ سال کراچی میں ہلاکتوں کے واقعات کے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران جاری کیے گئے احکامات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ بھتے کی وجہ پہلے سے زیادہ ہڑتالیں ہو رہی ہیں، بلڈر اور تاجر سمیت کوئی ایسا پروفیشنل مشکل سے ہو جو بھتہ نہ دیتا ہو۔

’پہلے پورا شہر ایک سرکل ہوتا تھا، اب علاقے بانٹ دیے گئے ہیں، پہلے پرچی بھیجتے تھے اور اب خود پہنچ جاتے ہیں۔‘

جسٹس انور ظہیر کا کہنا تھا کہ نوگو ایریا پہلے کی طرح نہیں ہیں مگر اب لسانی اور سیاسی بنیادوں پر یہ تقسیم ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے علاقے میں نہیں جا سکتے، اگر کوئی غلطی سے چلا بھی جائے تو اس کی بوری بند لاش ملتی ہے۔

عدالت کے حکم پر بدھ کو ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل رضوان اختر عدالت میں پیش ہوئے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ صنعتی علاقے میں ان کے دو ہزار جوان تعینات ہیں۔ ان کے علم میں یہ ہے کہ کچھ لوگ بھتہ وصول کر رہے ہیں مگر رینجرز اس وقت تک کارروائی نہیں کر سکتی جب تک کوئی شکایت نہ کرے۔

ڈی جی رینجرز نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سولہ سو مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے ان سے معلوم کیا کہ ان کے کیا اختیارات ہیں۔

ڈی جی نے بتایا کہ ان کے پاس چھاپوں اور گرفتاریوں کا اختیار ہے جو لوگ گرفتار ہوتے ہیں یا اسلحہ برآمد ہوتا وہ پولیس کے حوالے کیا جاتا ہے۔

"سندھ حکومت یہاں بلوچستان کی نقل کیوں نہیں کرتی، وہاں تو ایف سی کو تھانے دے دیے گئے ہیں۔ رینجرز کے پاس چند ہی صحیح مگر تھانے ہونا چاہیے جہاں وہ ملزمان سے تفتیش بھی کر سکے"

جسٹس عارف حسین خلجی

جسٹس امیر ہانی کا کہنا تھا کہ مشیر نامہ اور رکوری میمو جب پولیس بنائے گی اور گرفتاری رینجرز کرے تو اس سے تو مسئلہ پیدا ہوگا۔

ایڈیشنل سیکرٹری ہوم وسیم احمد کا کہنا تھا کہ ننانوے فیصد چھاپوں کے وقت پولیس ساتھ ہوتی ہے اس لیے مزید قانونی کارروائی وہ ہی کرتی ہے۔

کراچی سے نامہ نگار کے مطابق جسٹس عارف حسین خلجی نے مشورہ دیا کہ سندھ حکومت یہاں بلوچستان کی نقل کیوں نہیں کرتی، وہاں تو ایف سی کو تھانے دے دیے گئے ہیں۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ رینجرز کے پاس چند ہی صحیح مگر تھانے ہونا چاہیے جہاں وہ ملزمان سے تفتیش بھی کر سکے۔

ڈی جی رینجرز کا موقف تھا کہ اگر رینجرز کو تھانے دے دیے گئے تو اہلکار مقدمات میں لگ جائیں گے اور انہیں سڑکوں سے ہٹانا پڑے گا۔

جسٹس انور ظہیر جمالی نے آئی جی سندھ پولیس سے سوال کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پولیس کو غیر سیاسی کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔

آئی جی نے انہیں آگاہ کیا کہ اس سلسلے میں اقدمات کیے جا رہے ہیں۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے انہیں مخاطب ہو کر کہا کہ اب بھی وقت ہے کچھ کر لیں ۔

عدالت نے سرکاری زمین پر قبضے کی تفصیلات طلب کیں، جسٹس امیر ہانی نے چیف سیکرٹری سے معلوم کیا کہ سرکاری زمین کا سروے ہوا ہے ان کے خیال میں تو آج تک نہیں کیا گیا، اس کی کیا وجہ ہے۔

اس سے پہلے بدھ کی صبح کو ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت آگاہ کیا کہ آئین کے تحت جب تک مردم شماری نہیں ہو جاتی اس وقت تک حلقہ بندیوں میں تبدیلی نہیں ہوسکتی پچھلے دنوں صرف گھر شماری ہوئی تھی مگر بعض وجوہات کی وجہ سے اس کو روک دیا گیا۔

سماعت کے دوران ایک موقعے پر جسٹس انور ظہیر جمالی نے نشاندہی کی کہ چار سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے مگر موت کی سزا پر عمل نہیں کیا گیا، ایسے ہزاروں قیدی ہوں گے۔

ان کے مطابق اگر سزائے موت کی ضرورت نہیں رہی تو قانون سازی کی جائے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کا یہ بھی کہنا تھا کہ رحم کی اپیلیں پڑی ہوئی ہیں ان پر منتھلی لی جاتی ہے۔جسٹس عارف حسین خلجی نے ان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بتا سکتے ہیں کے ایک درخواست پر کتنی کتنی منتھلی ملتی ہے۔

یاد رہے کہ سزائے موت کے خلاف رحم کی اپیل صدر پاکستان کو کی جاتی ہے موجودہ حکومت نے سزائے موت پر غیر اعلانیہ طور پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>