
دھماکہ خیز مواد ایک موٹر سائیکل سے بندھا تھا اور دھماکہ اس وقت ہوا جب امام بارگاہ میں محرم کے سلسلے میں ایک مجلس جاری تھی۔
یکلپاکستان کے شہر کراچی کے علاقے عباس ٹاؤن میں اتوار کو رات گئے ایک امام بارگاہ کے قریب دھماکے میں دو افراد ہلاک جبکہ بیس زخمی ہو گئے ہیں۔
زخمی ہونے والوں میں رینجرز اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی سندھ اقبال محمود نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس دھماکے کے لیے تین سے چار کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا جو کہ دیسی ساختہ تھا۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد کو ایک موٹر سائیکل سے باندھ کر ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا۔
انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ حفاظتی اقدامات میں کوئی خامی تھی۔
بلکہ انہوں نے کہا کہ یہ حفاظتی انتظامات ہی تھے جن کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار اسے امام بارگاہ سے دور چھوڑ کر فرار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں موٹر سائیکل استعمال کر کے تخریبی کارروائیاں کی جانے کی اطلاعات تھیں جس کی وجہ سے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ وفاقی حکومت سے گزارش کریں گے کہ وہ عاشورہ تک موٹر سائیکل سواری کے حوالے سے خاطر خواہ اقدامات کریں تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔
مجرم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی کی فوٹیج دیکھی جا رہی ہے جس سے ملنے والی معلومات کو تحقیقات میں شامل کیا جائے گا۔
زخمیوں کو ابتدائی طور پر پٹیل ہسپتال لے جایا گیا جب کے بعد میں انہیں آغا خان ہسپتال، لیاقت نیشنل ہسپتال اور دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جبکہ مقامی ٹی وی چینلز دھماکے کے بعد شدید فائرنگ کی فوٹیج دکھا رہے ہیں۔






























