
پاکستان میں رواں سال اب تک سینتالیس کیس سامنے آئے ہیں
پاکستان میں پولیو کے خلاف مہم چلانے والے اداروں کے مطابق پولیو سے بچاؤ کی حالیہ قومی مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطروں کی مخالفت کرنے والے خاندانوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
مشترکہ طور پر پولیو مہم چلانے والے اداروں، عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور وزیراعظمِ پاکستان کے خصوصی کیمپ کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سال دو ہزار بارہ میں پولیو کے خلاف ملک گیر قومی مہم کے دوران اسی ہزار تین سو تیس خاندانوں نے اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کیا جبکہ رواں ماہ اکتوبر میں چلائی جانے والی مہم کے دوران ایسے خاندانوں کی تعداد کم ہو کر پینتالیس ہزار ایک سو بائیس ہو گئی۔
ان اداروں کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں جنوری کی مہم میں پندرہ 34966 خاندانوں جبکہ اکتوبر کی مہم میں ایسے خاندانوں کی تعداد کم ہو کر 15663 رہ گئی۔
اس کے علاوہ صوبہ پنجاب میں یہ تعداد 6233 سے کم ہو کر 1702 رہی گئی، صوبہ بلوچستان، صوبہ سندھ اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی پولیو سے بچاؤ کے قطروں سے انکاری خاندانوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے اور یہ تعداد سترہ ہزار ایک سو سے کم کر دس ہزار ایک سو رہ گئی ہے۔

پندرہ اکتوبر سے شروع ہونے والی تین روزہ مہم میں تین کروڑ بیس لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے سینئیر کوارڈینیٹر ڈاکٹر الائس ڈری کے مطابق کامیابی اپنی جگہ لیکن ہر وہ بچہ جو پولیو کے قطروں سے محروم رہا اب بھی ادارے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ بات قابل تشویش ہے کہ حالیہ مہم کے دوران ملک بھر میں اب بھی چار لاکھ چوراسی ہزار تین سو چوالیس ایسے بچے ہیں جنہیں پولیو کے قطرے نہیں پلائے جا سکے اور پولیو مہم کے دوران ہر بار وہ بچے پولیو سے بچاؤ کے قطروں سے محروم رہ جاتے ہیں جنہیں گزشتہ کئی مہمات کے دوران پہلے ہی قطرے نہیں پلائے جا سکے تھے۔
ڈاکٹر الائس ڈری نے مزید بتایا کہ پاکستان کو پولیو سے فری یا پاک ملک قرار دینے میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ بچے ہیں جنہیں مسلسل کئی مہمات کے دوران قطرے نہیں پلائے جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اسے سعودی عرب اور ایران کی طرح ہونا چاہیے جہاں پولیو کے خلاف چند مہمات میں ہی پولیو کا خاتمہ ممکن ہو سکا کیونکہ ان میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ ہر ایک بچے کو قطرے پلا سکتے۔
انہوں نے ایران کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس نے گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی چار مہمات میں یہ پولیو سے فری ملک کا درجہ حاصل کر لیا۔
یونیسیف میں چیف آف پولیو ڈینس کنگ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پاکستان کو پولیو سے فری ملک بنانے کے لیے پولیو سے بچاؤ کے قطروں سے انکار کرنے والوں کے حوالے سے اب بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر ان بچوں کے حوالے سے جو مسلسل پولیو کے قطروں سے محروم رہے اور انہیں ابھی تک قطرے نہیں پلائے جا سکے۔
پاکستان میں گزشتہ سال پولیو کے ایک سو تیرہ کیس سامنے آئے تھے اور رواں سال میں اب تک سینتالیس کیس سامنے آئے ہیں۔






























