
پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں اب بھی پولیو کا مہلک وائرس پایا جاتا ہے۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کے ایک رکن کی ہلاکت کے بعد پولیو مہم معطل کر دی گئی ہے۔
کوئٹہ کے مضافات میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم پر ایک موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی۔
اس واقعے میں ٹیم کا ایک رکن شدید زخمی ہو گیا اور ہسپتال لے جاتے ہوئے اس کی موت واقع ہو گئی۔
اس واقعے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو پیش آنے والے اس واقعے کے بعد کوئٹہ کے کئی علاقوں میں پولیو مہم معطل کر دی گئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ایک پولیس افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ ہلاک ہونے والے کارکن کی کسی سے ذاتی دشمنی تھی یا پولیو مہم کی مخالفت کرنے والوں نے یہ حملہ کیا۔
رواں سال جولائی میں کراچی میں پولیو مہم چلانے والے ایک ڈاکٹر کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی جانب سے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی تلاش کی لیے چلائی جانے والی جعلی پولیو مہم کے بعد سے پاکستان میں پولیو مہم کی مخالفت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں اب بھی پولیو کا مہلک وائرس پایا جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ اس فہرست میں افغانستان اور نائجیریا شامل ہیں۔
رواں سال جولائی میں بعض شدت پسند تنظیموں کی مخالفت کی وجہ سے پاکستان کے قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور باڑہ میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم ملتوی کردی گئی تھی۔






























