پولیو آگاہی مہم: پاک افغان باکسنگ مقابلے

آخری وقت اشاعت:  اتوار 9 ستمبر 2012 ,‭ 16:48 GMT 21:48 PST

بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے چمن میں پاکستان اور افغانستان کے باکسرز پولیو کی مہم کی اگاہی کے لیے میچ کھیل رہے ہیں۔

افغانستان سے باکسروں اور ان کے منتظمین پر مشتمل ایک گروپ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کی تحصیل چمن میں پولیو کے قطروں کی مہم کے بارے میں آگاہی کے لیے خیر سگالی میچ کھیلنے آئے ہیں۔

کل یعنی دس ستمبر سے پاکستان کے نوّے اضلاع میں پولیو کی قومی مہم کا آغاز ہو رہا ہے جس کے ایک ہفتے بعد یہ مہم افغانستان میں بھی شروع کی جائے گی۔

بلوچستان کا یہ علاقہ دنیا میں پولیو کے کیسوں کے سلسلے میں سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ ان مقابلوں کا انعقاد اقوام متحدہ کی بچوں کی فلاح وبہبود کی تنظیم یونیسف کے تعاون سے کیا گیا ہے۔

یونیسف کے ترجمان کے مطابق اس علاقے میں پچھلے سال پولیو کے بائیس کیس سامنے آئے تھے جس کی وجہ سے ان مقابلوں کے چمن میں انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یونیسف کے مقامی ترجمان ڈاکٹر شمس اللہ ترین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہمارے ان سرحدی علاقوں میں لوگوں کا آنا جانا اتنا زیادہ ہے کہ اس وائرس کے ایک جگہ سے دوسری جگہ آسانی سے منتقل ہو نے کا خطرہ رہتا ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وجہ سے ہم نے سرحد کے دونوں اطراف کے لوگوں میں آگاہی کے لیے مختلف مواقع پیدا کیے، جس کی ایک مثال باکسنگ کے مقابلے ہیں۔

News image"سرحدی علاقوں میں لوگوں کا آنا جانا اتنا زیادہ ہے کہ اس وائرس کے ایک جگہ سے دوسری جگہ آسانی سے منتقل ہو نے کا خطرہ رہتا ہے۔"

ڈاکٹر شمس اللہ ترین

یہ پہلا موقع نہیں کہ مقامی سرحدی آبادیوں کو قائل کرنے کے لیے ایسے مواقع پیدا کیے گئے ہیں جہاں لوگ خوشی سے جمع ہوں اور جاتے جاتے کارآمد معلومات بھی لے کر جائیں۔ اس سے پہلے مقامی قبائل کے لیے نشانہ بازی کے مقابلوں کا انعقاد کچھ دن پہلے کیا گیا تھا۔

مقامی صحافی مطیع اللہ اچکزئی نے ٹیلی فون پر بی بی سی کے طاہر عمران میاں کو بتایا کہ ’تمام جماعتوں اور مقامی قبائلی عمائدین کی کوششوں سے اب تقریباً پچانوے فیصد لوگ قطرے پلانے کی مہم کو خوش آمدید کہتے ہیں اور اس مہم کے دوران ہر قسم کے تعاون کی کوشش کرتے ہیں‘۔

ان مقابلوں کا انعقاد چمن شہر کے ہائی سکول گراؤنڈ میں ہو رہا ہے جہاں کافی تعداد میں مقامی لوگ اکٹھے ہیں۔

News image"پچھلے سال ضلع قلعہ عبداللہ میں پولیو کے بائیس کیس سامنے آنے کے بعد اسے پورے بلوچستان میں سب سے خطرناک ضلع قرار دیا گیا ہے۔"

مقامی صحافی مطیع اللہ اچکزئی

مقامی صحافی مطیع اللہ اچکزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پچھلے سال ضلع قلعہ عبداللہ میں پولیو کے بائیس کیس سامنے آنے کے بعد اسے پورے بلوچستان میں سب سے خطرناک ضلع قرار دیا گیا ہے‘۔

افغانستان سے آنے والے ان کھلاڑیوں کا تعلق قندہار سے ہے۔

افغان کھلاڑیوں کے کوچ گلاب شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’یہ ہمارے تین کلب یہاں ہماری ٹیم کے ساتھ آئے ہوئے ہیں‘۔

چھپن کلوگرام کی درجہ بندی کے باکسر عزت اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پولیو کے واسطے ہم نے یہ پروگرام بنایا ہے اور اس میں افغانستان اور پاکستان دونوں شامل ہیں‘۔

عزت اللہ نے کہا کہ بچوں کے لیے پولیو بہت ضروری ہے اور میں نے بھی بچپن میں پولیو کے قطرے پیے تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت ضروری ہے۔

ان مقابلوں کے موقع پر مختلف عمائدین نے بچوں کو موقع پر پولیو کی ویکسین کے قطرے بھی پلائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>