خیبر: پولیو کے پی تھری وائرس کی تصدیق

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پولیو کے اس انتہائی خطرناک پی تھری وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جس پر دنیا بھر میں لگ بھگ قابو پایا جا چکا ہے۔
ادھر پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخواہ میں گزشتہ چند روز میں پولیو کے مزید چار مریض بچوں کی تصدیق ہو گئی ہے جن میں سے دو ایسے بچے ہیں جنھیں چار سے سات مرتبہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔
پی تھری وائرس خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں پایا گیا ہے ۔
خیبر پختونخواہ میں انسداد پولیو کے لیے جاری مہم کے سربراہ ڈاکٹر جانباز آفریدی نے بی بی سی کو بتایا پولیو کی وائرس کی تین اقسام ہیں جن میں سے پی ٹو انیس سو ننانوے میں ختم کیا جا چکا ہے۔ پی تھری بھی کافی حد تک ختم ہو چکا ہے لیکن ایشیائی ممالک میں یہ وائرس صرف خیبر ایجنسی میں پایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر جانباز آفریدی نے بتایا کہ یہ وائرس اس قدر خطرناک ہے کہ یہ وائرس اگر ایک بچے میں موجود ہو تو تقریباً ایک ہزار بچے اس وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک کیس ایسا بھی سامنے آیا ہے کہ جس میں پی ون اور پی تھری دونوں قسم کے وائرس پائے گئے ہیں۔ ان سے جب پوچھا کہ اس وائرس کی تصدیق کیسے ہوئی تو ان کا کہنا تھا انسانی فضلے کے تجزیے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ کس قسم کے وائرس کا حملہ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جن بچوں اور بچیوں میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے ان کا تعلق خیبر پختونخواہ کے علاقے لکی مروت اور مردان جبکہ دو کا تعلق قبائلی علاقے باجوڑ اور خیبر ایجنسی سے بتایا گیا ہے۔
ڈاکٹر جانباز آفریدی کا کہنا ہے کہ لکی مروت میں چھ ماہ کی بچی کو چار مرتبہ اور باجوڑ ایجنسی کے تیس ماہ کے بچے کو سات مرتبہ پولیو سے بچاؤ کی قطرے پلائے گئے تھے لیکن اس کے باوجود ان میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جانے کے باوجود مرض لاحق ہونے کی متعدد وجوہات ہیں جن میں قوت مدافعت کا نہ ہونا، پولیو سے لڑنے والے وائرس کا ختم ہو جانا ، خوراک کی کمی یا بچوں کا بار بار بیمار ہونا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیبر ایجنسی میں اس مرض سے متاثر ہونے والے بچے کو حالات کی خرابی کی وجہ سے قطرے نہیں پلائے جا سکے جبکہ مردان سے متاثرہ بچی کے والدین نے بچی کو قطرے پلانے سے انکار کر دیا تھا۔ خیبر پختونخوا میں ہر سال پندرہ ہزار سے زائد والدین اپنے بچوں کو پولیوں سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کر دیتے ہیں۔
ادھر وزیر اعظم راجہ پریویز اشرف کی صدارت میں منعقد انسداد پولیو کے حوالے سے اجلاس میں صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ انکاری والدین کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے مہم شروع کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی والدہ اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس بیماری کے خلاف مہم میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیں گی۔
پاکستان میں اس سال اب ستائیس بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں تیرہ کا تعلق قبائلی علاقوں سے ہے ، چھ کا تعلق خیبر پختونخوا ، سندھ اور پنجاب سے تین تین جبکہ بلوچستان سے اس سال اب تک دو مریض سامنے آچکے ہیں۔







