
گزشتہ سال اس عرصے میں قبائلی علاقوں سے چھبیس سے زیادہ پولیو کے کیسز سامنے آ چکے تھے
پاکستان میں اس سال اب تک پولیو کے انتیس کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے تیرہ کا تعلق پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے گزشتہ سال کی نسبت یہ تعداد کافی حد تک کم ہے اور اب پولیو کے وائرس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے مزید کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اس سال اب تک پولیو کے وائرس سے خیبر ایجنسی کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں حکام کے مطابق تیرہ میں سے دس مریض اس خطرناک مرض کے وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف میں انسداد پولیو کے حوالے سے تعینات ڈاکٹر رفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ خیبر ایجنسی میں تحصیل باڑہ سے نو مریض سامنے آئے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ ان علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کے باعث، پولیو مہم کو درپیش مسائل، ہے۔ انہوں نے کہا کہ باڑہ کے اس علاقے میں گزشتہ تین سال سے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے جا سکے اور یہ حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اس عرصے میں قبائلی علاقوں سے چھبیس سے زیادہ پولیو کے کیسز سامنے آ چکے تھے۔
ڈاکٹر رفیق کے مطابق خیبر ایجنسی کے کچھ علاقوں میں کام کیا جا سکتا ہے اور بہت جلد متعدد بیماریوں سے بچاؤ کے ویکسین شروع کردی جائے گی۔
ان سے جب پوچھا گیا کہ ان علاقوں میں پہنچنے کے لیے مشکلات کیا ہیں تو ان کا کہنا تھا جہاں فوجی آپریشن جاری ہے اور جہاں خطرہ ہے وہاں محکمہ صحت کی ٹیمیں نہیں پہنچ سکتیں جبکہ جنوبی اور شمالی وزیرستان ایجنسی میں ایسے گروہ ہیں جو پولیو کے قطرے پلانے کی اجازت نہیں دے رہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور دیگر ادارے کوششیں کر رہے ہیں کہ لوگوں کو بتایا جا سکے کہ پابندی کے اثرات معصوم بچوں پر پڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ بہت جلد ان بچوں کو بھی قطرے پلائے جا سکیں گے جنہیں اب تک پابندی یا حالات کی وجہ سے ویکسین نہیں دی جا سکی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں سے چار ایسے بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جنہیں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا چکے تھے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ایسا صرف ان بچوں میں ہی ہوتا ہے جن میں قوتِ مدافعت کم ہو یا کمزور ہوں اور وہاں ویکسین کام نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے کیسز کی تعداد انتہائی کم ہے۔






























