پولیو مہم، خاصہ دار فورس کی خدمات حاصل

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پولیو کے مرض پر قابو پانے کے لیے مقامی انتظامیہ نے مختلف چیک پوسٹوں پر تعینات خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کی خدمات حاصل کی ہیں۔
خیبر ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ مظہر زیب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیٹکل انتظامیہ نے ایجنسی بھر میں خاصہ دار اور لیویز فورس کے پینتالیس اہلکاروں کو پولیو مہم کی خصوصی تربیت دے کر ان کی خدمات محکمۂ صحت کے حوالے کی ہیں۔
<link type="page"><caption> شدت پسند تنظیموں کی مخالفت، پولیو مہم ملتوی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/07/120716_pak_stops_polio_campaign_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
اس کے علاوہ تیس سے زیادہ مقامی افراد کو بھرتی کر کے پولیو مہم پر معمور کیا گیا ہے۔
پولیٹکل ایجنٹ کے بیان کے مطابق تحصیل لنڈی کوتل اور تحصیل جمرود میں پولیو مہم میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے تاہم تحصیل باڑہ میں جہاں شدت پسندوں کی مختلف تنظیمیں موجود ہیں وہاں پر پولیو مُہم میں مُشکلات کا سامنا ہے۔
خیبر ایجنسی میں ایجنسی سرجن ڈاکٹر اعظم خان نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ خاصہ دار فورس کو تربیت فراہم کرنے کی وجہ سے پولیو مہم چلانے میں بہت مدد ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحصیل باڑہ میں جن علاقوں تک پولیو مہم چلانے والے ٹیمیں نہیں پہنچ سکتیں ان علاقوں میں موجود تمام چیک پوسٹوں پر تربیت یافتہ خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کو تعینات کیاگیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ایجنسی سرجن کے مطابق چیک پوسٹوں پر تربیت یافتہ اہلکاروں کی موجودگی سے تقریباً ایک مہینے میں چار ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ جن علاقوں تک شدت پسندی کی وجہ سے رسائی نہیں ہے ان علاقوں سے آنے اور جانے والے لوگوں کے ساتھ موجود بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جن خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کو تربیت دی گئی ہے۔ ان کے بقول وہ پورا سال ان چیک پوسٹوں پر موجود رہیں گے اور ان کو وقفے وقفے سے تازہ پولیو ویکسین فراہم کی جائےگی۔
یاد رہے کہ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ اور جنوبی و شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے جانب سے پولیو مہم پر پابندی کے بعد سے مقامی انتظامیہ نے یہ اقدم اُٹھایا ہے۔







