’پولیو مہم کی مخالفت کے محرکات سیاسی ہیں‘

آصفہ بھٹو زرداری نے پہلی مرتبہ میڈیا کو انٹرویو دیا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنآصفہ بھٹو زرداری نے پہلی مرتبہ میڈیا کو انٹرویو دیا ہے
    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم کی سفیر اور صدر پاکستان آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پولیو خاتمے کی مہم کی مخالفت کے محرکات سیاسی ہیں۔

آصفہ بھٹو زرداری نے یہ بات بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان میں تین روزہ پولیو مہم قبائلی علاقوں میں <link type="page"><caption> بعض شدت پسند تنظیموں کی مخالفت</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/07/120716_pak_stops_polio_campaign_rwa.shtml" platform="highweb"/></link> کی وجہ سے شروع نہیں ہو سکی تھی، جس کے نتیجے میں حکام کے مطابق دو لاکھ سے زیادہ بچے پولیو کے خطرے سے دوچار ہوگئے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان نے ڈرون حملے جاری رہنے تک پولیو کے خلاف مہم پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔

<link type="page"><caption> صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/07/120719_polio_who_afridi_rh.shtml" platform="highweb"/></link> کے مطابق اسامہ بن لادن کو مبینہ طور پر پکڑوانے میں مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ذرائع ابلاغ کی جانب سے پولیو مہم سے جوڑنے کی وجہ سے پاکستان میں حالیہ پولیو مہم کو سخت دھچکہ پہنچا ہے۔

انٹرویو میں جب پولیو کے خلاف مہم کی سفیر آصفہ بھٹو زرداری سے پوچھا گیا کہ وہ اُن افراد یا خاندانوں سے مقابلے کے لیے کیا لائحہِ عمل اختیار کر رہی ہیں جو اپنے بچوں کو پولیو ویکسین پلانے سے انکاری ہیں۔

اس پر انہوں نے کہا کہ ’وہ جانتی ہیں کہ چندگروہ پاکستانی بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانے کے خلاف ہیں اور میرے خیال میں ان کی اس تحریک کے محرکات سیاسی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ’میری خواہش تو ہر بچے تک پہنچنی کی ہے چاہے وہ پاکستان میں کہیں بھی رہتا ہو لیکن ایسا کرتے ہوئے میں اپنی مہم کے کارکنوں کی جانیں بھی خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتی۔‘

ایک سوال کہ حکومت ان بچوں تک کیسے پہنچے گی جو کہ اس وقت طالبان کے زیرِ اثر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پھنسے ہوئے ہی۔ کیا آپ اس مسئلے کا کوئی قابلِ عمل حل تجویز کر سکتی ہیں۔

اس پر انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے سال دو ہزار گیارہ میں ایک قومی ایمرجنسی پلان کا اجراء کیا تھا اور اس پلان میں دور دراز علاقوں میں لوگوں تک پہنچنے کی حکمتِ عملی وضح کی گئی جس کی مدد سے ہمیں چند بچوں تک رسائی بھی ملی۔

’ہم وہاں کے تمام بچوں تک نہیں پہنچ سکے کیوں کہ ایسا کرنا ہماری مہم کے بہت سے کارکنوں کو خطرے سے دوچار کرتا ۔لیکن ہم اپنی کوشش تب تک جاری رکھیں گے جب تک کہ ہم ہر بچے تک نہیں پہنچ جاتے۔‘

پولیو کے خلاف مہم کی سفیر بننے پر انہوں نے کہا کہ’میرے لیے یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ حکومت نے پاکستانی بچوں کی مدد کے لیے مجھے یہ ذمہ داری سونپی ہے، جب میری والدہ نے پہلی پولیو کے خلاف مہم شروع کی تو وہ یہ مثال قائم کرنا چاہتی تھیں کہ تمام پاکستانی بچے ان کے بچوں جیسے ہیں، اس لیے انہوں نے پولیو سے بچاؤ کے قطرے سب سے پہلے مجھے، میرے بھائی اور بہن کو پلائے، کیونکہ وہ اس بیماری سے پاکستانی بچوں کو معذور ہوتا نہیں دیکھنا چاہتی تھیں۔‘

پولیو کے خلاف مہم کے بارے میں آصفہ بھٹو زرداری نے بتاتے ہوئے کہا کہ’ان کے لیے لوگوں سے رابط کر کے انہیں یہ سمجھانا اہمیت رکھتا ہے کہ پولیو کا مرض ان کے بچوں کو کیسے متاثر کر سکتا ہے اور ان کے بچوں کو پولیو سے بچا کر میں انہیں باور کراتی ہوں کہ ان کا بچہ صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔‘

ایک سوال کے پولیو کے خلاف مہم میں طریقہ کار کے بارے میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پولیو کے خلاف مہم چلانے میں خاصی متحرک ہیں اور اس کے علاوہ مختلف میٹنگز میں جا کر ملک بھر سے سامنے آنے والے پولیو کے تمام کیسز کا جایزہ لیتی ہیں اور یہ دیکھتی ہیں کہ لوگوں کی مدد کرنے میں ہم کہاں کمزور اور کہاں مضبوط ہوئے ہیں۔