
حالیہ مہم میں ڈھائی لاکھ کارکنوں نے قطرے پلانے کے عمل میں حصہ لیا
عالمی ادارۂ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او کے مطابق، پاکستان میں پولیو سے بچاؤ کی حالیہ قومی مہم میں بھی اٹھارہ لاکھ بچوں کو اس بیماری سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جا سکے۔
یہ اس سال کی چوتھی اور آخری قومی مہم تھی۔
پندرہ اکتوبر سے شروع ہونے والی اس تین روزہ مہم میں تین کروڑ بیس لاکھ بچوں کو قطرے پلائے جانے تھے لیکن عالمی ادارۂ صحت کے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم کے نگراں ڈاکٹر الائس ڈری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس مہم کے دوران جہاں سترہ لاکھ بچوں تک پہنچا نہیں جا سکا وہیں ساٹھ ہزار بچوں کے والدین نے اپنے بچوں کو قطرے پلوانے سے انکار کر دیا۔
اسلام آباد میں ہماری نامہ نگار کے مطابق ڈاکٹر الائس ڈری نے کہا کہ اس مہم میں شمالی و جنوبی وزیرستان، خیبر ایجنسی کی باڑہ اور تیراہ تحصیلیں اور کوئٹہ جیسے اہم علاقے شامل نہیں کیے جا سکے اور ان علاقوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے دو لاکھ ساٹھ ہزار بچوں کو قطرے نہیں پلائے جائیں گے۔
یاد رہے کہ بدھ کو کوئٹہ میں پولیو مہم کے ایک کارکن کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر الائس ڈری نے کہا کہ اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیرستان میں طالبان کی پولیو مہم کی مخالفت کی وجہ سے بچوں تک رسائی نہیں ہے جبکہ دیگر علاقوں تک شورش کے باعث پہنچا نہیں گیا۔
" پاکستان میں دو ہزار تیرہ تک پولیو ختم نہیں ہو سکے گا اور جلداز جلد بھی 2014 تک اس مرض کا ملک سے خاتمہ ممکن ہے۔"
ڈاکٹر الائس ڈری
ڈاکٹر الائس ڈری نے بتایا کہ حالیہ مہم میں ڈھائی لاکھ کارکنوں نے قطرے پلانے کے عمل میں حصہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ گو کہ قبائلی علاقوں اور فاٹا میں ان بچوں کی شرح نسبتاً کم ہے جنہیں قطرے نہیں پلائے گئے، تاہم پولیو کے وائرس کی موجودگی کے باعث اس کے پھیلنے کا خطرہ ضرور ہے۔
پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو کا وائرس اب بھی پایا جاتا ہے۔ دوسرے ممالک افعانستان اور نائجیریا شامل ہیں۔
پاکستان میں اس سال اب تک پولیو کے چھیالیس نئے کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ پچھلے سال، اسی عرصہ کے دوران، ایک سو چونسٹھ کیس تھے۔ گذشتہ سال، ان کیسز کی مجموعی تعداد ایک سو اٹھانوے رہی تھی۔
حکومت نے پولیو کے خاتمے کے لیے اس سال ہنگامی بنیاد پر منصوبہ تشکیل دیا ہے تاہم ڈاکٹر ڈری کا کہنا ہےکہ پاکستان میں دو ہزار تیرہ تک پولیو ختم نہیں ہو سکے گا اور جلداز جلد بھی 2014 تک اس مرض کا ملک سے خاتمہ ممکن ہے۔






























