
اسلام اباد کی ایک عدالت نے توہین مذہب کے مقدمے کے شواہد تبدیل کرنے کے الزام میں گرفتارپیش امام کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے توہین مذہب کے مقدمے کے شواہد تبدیل کرنے کے الزام میں گرفتار مقامی مسجد کے پیش امام کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس سے پہلے عدالت نے توہین مذہب کےالزام میں گرفتار ہونے والی عیسائی لڑکی رمشا مسیح کو بھی ضمانت پر رہا کردیا تھا۔
رمشا کی ضمانت گُزشتہ ماہ منظور کی گئی تھی اور ضمانت پر رہائی کے بعد وفاقی حکومت نے حفاظتی نکتہ نظر سے رمشا اور اُن کے اہلخانہ کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا ہے اور اُن کی سیکورٹی کے لیے پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جواد عباس نے جمعرات کو ملزم خالد جدون کے وکیل کو دو لاکھ کے ضمانتی مچلکے عدالت میں جمع کروانے کا حکم ہے۔
ہمارے نامہ نگار کے مطابق ضمانت کی درخواست کے حق میں خالد جدون کے وکیل واجد گیلانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل کے بارے میں اس مسجد کے نائب خطیب حافظ زبیر نے جو بیان دیا ہے اُس میں صرف ایک جگہ اُن کے موکل کا ذکر ہے جبکہ باقی جگہ پر صرف حافظ یا مولوی صاحب لکھا ہوا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حافظ زبیر سے مجسٹریٹ یا اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے زبردستی بیان لیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ توہین مذہب کا مقدمہ وفاقی یا صوبائی حکومت کی ہدایات پر درج کیا جاتا ہے جبکہ اس مقدمے میں حکومت کی طرف سے کوئی احکامات نہیں دیے گئے تھے۔
واجد گیلانی کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں دو گواہوں نے بھی عدالت میں بیان حلفی جمع کروائے ہیں کہ اُنہوں نے اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے افسران کو یہ کبھی نہیں کہا کہ اُنہوں نے خِالد جدون کو اس مقدمے کے شواہد تبدیل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
ملزم کے وکیل نے سماعت کے دوران عدالت میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا وہ ڈیکرلیشن بھی پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ عدالت عالیہ نے توہین مذہب کے مقدمے کی سماعت سے متعلق حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے لیکن ضمانت کی درخواست اگر میرٹ پر ہے تو اُس پر اس حکم امتناعی کا اطلاق نہیں ہوتا اور متعلقہ عدالت درخواست کی سماعت کرسکتی ہے۔
ڈسٹرکٹ اٹارنی عبدالحفیظ پراچہ نے بھی ضمانت کی اس درخواست کی مخالفت نہیں کی اور اُن کا کہنا تھا کہ ملزم کے خلاف استغاثہ کے پاس کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔






























