
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں موجودہ بدامنی پر کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے صوبائی حکام کو احکامات جاری کیے کہ صوبے میں تقرر کیے گئے نئے پولیس افسران کو شورش زدہ علاقوں میں تعینات کیا جائے۔
سپریم کورٹ میں بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔
چیف جسٹس نے سماعت میں صوبے میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس نے صوبائی حکومت سے لاپتہ افراد اور اغوا برائے تاوان کے واقعات کی تفصیلات طلب کیں۔
جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سماعت کے دوران انسپکٹر جنرل بلوچستان سے استفسار کیا کہ صوبے میں تعینات کیے گئے تیس پولیس افسران کی ابھی تک تقرریاں کیوں نہیں ہوئیں۔
انگریزی اخبار ڈان کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے کے پشتوں علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے۔ انہوں نے احکامات دیے کہ نئے پولیس افسران کو بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں تعینات کیا جائے۔
چیف جسٹس نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کئی پولیس افسران کی تقرری کبھی بھی صوبے میں نہیں ہوئی۔
بینچ میں شامل جسٹس خلجی عارف نے بلوچستان کے چیف سیکریٹری سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر رپورٹ طلب کی۔
انہوں نے سماعت کے دوران چیف سیکریٹری سے استفسار کیا کہ آیا ایف سی کی تعیناتی کے بعد صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔






























