
حکم خان کا شمار بم ڈسپوزل یونٹ پشاور کے انتہائی دلیر اور فرض شناس اہلکاروں میں ہوتا تھا
پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا میں گذشتہ چار سال سال کے دوران بم ڈسپوزل یونٹ کے نو اہلکار بم ناکارہ بنانے کی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
ان میں انسپکٹر حکم خان بھی شامل ہیں جو جمعہ کو پشاور میں ہلاک ہوئے۔
بم ڈسپوزل یونٹ ( بی ڈی ایس) کے سربراہ اے آئی جی شفقت ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی صبح پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ قبائلی علاقے کے سرحد پر واقع پشاور کے علاقے باڑہ شیخان میں مسلح افراد کی طرف سے دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بم ڈسپوزل یونٹ کے انسپکٹر حکم خان نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پہنچے اور ابھی دھماکہ خیز مواد کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا جس سے وہ موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ غالب امکان یہی ہے کہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول سے کیا گیا ہے۔
"حکم خان نے بم دھماکے سے بچنے کےلیے کوئی حفاظتی لباس یا بم سوٹ نہیں پہنا ہوا تھا۔ اگر وہ بم سوٹ پہنے بھی ہوئے ہوتے تب بھی وہ نہ بچتے کیونکہ اس دھماکے میں پانچ کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے جبکہ بم سوٹ دو ڈھائی کلوگرام بارودی مواد سے بچنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔"
اے آئی جی شفت ملک
ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان للہ احسان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
حکم خان کا شمار بم ڈسپوزل یونٹ پشاور کے انتہائی دلیر اور فرض شناس اہلکاروں میں ہوتا تھا۔
چوون سالہ پولیس اہلکار کا تعلق پشاور کے علاقے متنی سے تھا۔ وہ گذشتہ ستائیس سال سے بم ڈسپوزل یونٹ میں انچارج کی حیثیت فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
اس سے پہلے بھی حکم خان ایک مرتبہ بارودی سرنگ ناکارہ بنانے کی کوشش میں دھماکے کی زد میں آئے تھے جس سے ان کے بائیں ہاتھ کے تین انگلیاں کٹ گئی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد سے اس کے ہاتھ کا ایک حصہ ناکارہ ہوگیا تھا۔
مرحوم حکم خان کے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بھی اچھے مراسم تھے اور وہ ہر کسی سے خندہ پشانی سے پیش آتے تھے۔
حکم خان کے ایک ساتھی اور ہیڈ کانسٹیبل زریات اللہ کا کہنا ہے کہ ’آج ان کی موت لکھی گئی تھی ورنہ شروع میں تو ان کا جائے وقوعہ کی طرف جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ صبح کے وقت جب انہیں اطلاع دی گئی کہ باڑہ شیخان کے علاقے میں بم ناکارہ بنانا ہے تو حکم خان نے انہیں کہا کہ وہ نفری لے کر جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہوجائیں۔‘
انہوں نے کہا کہ جب وہ جانے لگے تو تھوڑی دیر کے بعد حکم خان خود بھی نکل آئے اور کہنے لگے کہ وہ بھی ساتھ جائیں گے حالانکہ پہلے ان کا جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

بم ڈسپوزل یونٹ پہلے ہی سٹاف کی کمی کا شکار تھا اور حکم خان جیسے باصلاحیت اہلکار کی موت کے بعد مزید خلاء پیدا ہوا: شفقت ملک
مرحوم کے بیٹے اکرم خان کا کہنا ہے کہ’ ہم سب خوش تھے کہ کل والد صاحب گھر آئیں گے کیونکہ کل ان کی چھٹی تھی لیکن ہمیں کیا پتہ تھا کہ اب وہ زندہ نہیں بلکہ ان کی لاش گھر آئےگی۔‘
انہوں نے کہا کہ انہیں یقین نہیں آ رہا کہ ان کے والد اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔
مرحوم نے پسماندگان میں سات بیٹے اور تین بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔حکم خان کے دو بیٹے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کی حیثیت سے ملازم ہیں۔
ادھر بی ڈی ایس کے سربراہ اے آئی جی شفت ملک کا کہنا ہے کہ حکم خان نے بم دھماکے سے بچنے کے لیے کوئی حفاظتی لباس یا بم سوٹ نہیں پہنا ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ بم سوٹ پہنے بھی ہوئے ہوتے تب بھی وہ نہ بچتے کیونکہ اس دھماکے میں پانچ کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے جبکہ بم سوٹ دو ڈھائی کلوگرام بارودی مواد سے بچنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔
ان کے مطابق گزشتہ چار سالوں کے دوران صوبہ میں نو پولیس اہلکار بم ناکارہ بنانے کی کوشش میں ہلاک ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بم ڈسپوزل یونٹ پہلے ہی سٹاف کی کمی کا شکار تھا اور حکم خان جیسے باصلاحیت اہلکار کی موت کے بعد مزید خلاء پیدا ہوا ہے۔
شفقت ملک کے مطابق ’پورے صوبے میں بی ڈی ایس یونٹ میں ستر فیصد سٹاف کی کمی ہے جبکہ ان کے پاس آلات کی بھی شدید کمی پائی جاتی ہے۔‘
اے آئی جی کے مطابق ان کے یونٹ پر تین چار سالوں سے شدید دباؤ کا بھی شکار ہے کیونکہ پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی خراب رہی ہے۔






























