دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے نئے قانون ضروری

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے دہشتگردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نئی قانون سازی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں یہ عمل بدقسمتی سے سست روی کا شکار ہے۔
پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر ایبٹ آباد کے علاقے کاکول میں واقع فوجی اکیڈمی میں منعقدہ فوجی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج کی نہیں بلکہ پاکستانی عوام بھی اس کا حصہ ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’دہشتگردی کے خلاف لڑائی صرف پاکستانی فوج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے اور ضروری ہے کہ قوم اس کے لیے یکسو ہو کیونکہ فوج کی کامیابی عوام کے تعاون سے ہی ممکن ہے‘۔
جنرل کیانی نے کہا کہ اس جنگ میں فوج نے جو بھی قربانیاں دی ہیں ان کا پھل تبھی ملے گا جب سول انتظامیہ فوج کی مدد کے بغیر اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل ہو جائے۔ ان کے مطابق ابھی اس مقصد کی تکمیل میں مزید وقت لگے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ضروری ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے نئے قوانین بنائے جائیں اور جہاں دنیا بھر میں اس سلسلے میں قانون سازی ہو چکی ہے وہیں بدقسمتی سے پاکستان میں یہ عمل سست روی کا شکار ہے۔
پاکستانی فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انہیں اس چیز کا احساس ہے کہ کسی فوج کے لیے سب سے مشکل کام اپنے ہی عوام کے خلاف لڑنا ہے لیکن یہ آخری حربہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ریاست اپنے اندر متوازی نظامِ حکومت یا عسکری قوت برداشت نہیں کر سکتی۔
جنرل کیانی نے کہا پاکستان اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے اور مذہبی عدم برداشت، سیاسی اتھل پتھل اور انارکی ملک کے لیے بڑے خطرات ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق اس وقت انتہاپسندی اور دہشتگردی سے ملک کو اصل خطرہ لاحق ہے۔ ’ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ان مسائل کے لیے ذمہ دار نہیں لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ انتہاپسندی اور دہشتگردی جیسی اصطلاحات کی صحیح تشریح کی جائے کیونکہ انہیں سمجھنے میں کوئی بھی غلطی قوم کو تقسیم کر سکتی ہے۔







