بلوچ قوم پرستی کی’بھاری قیمت‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں قوم پرستی کی کتنی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، احمد علی بلوچ کا خاندان اس کی ایک واضح مثال ہے۔
دو ہزار پانچ سے پہلے احمد علی کہودہ کی زندگی بھی بلوچستان کے ایک عام ٹھیکیدار اور کاشت کار جیسی ہی تھی، تربت کے قریب کلاگ میں ان کی آبائی زمینیں ہیں اور رہائش ہے۔
بزرگ بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد سوئی سے اٹھنے والی لہر جب بلوچستان میں پھیلی تو احمد علی بھی اس سے خود کو بچا نہیں سکے۔ اس کی وجہ ممکنہ طور پر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن اور بلوچستان نیشنل موومنٹ کے سربراہ غلام محمد بلوچ کے ساتھ ان کی دوستی تھی۔
سیاسی کارکنوں کے خلاف آپریشن اور ان کی گمشدگیوں کے باعث احمد علی کو روپوشی کی زندگی گزارنا پڑی اور جب خود ان کے قریبی رفقاء کی لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا تو رشتے داروں کے دباؤ پر وہ ملک چھوڑ گئے۔
احمد علی کے فرزند میرین بلوچ کا کہنا ہے کہ اب وہ ناروے میں ایک کیمپ میں دشوار زندگی گزار رہے ہیں جہاں بھی ان کی نقل و حرکت محدود رکھی گئی ہے۔
احمد علی کے وطن سے دور ہوجانے کے بعد بھی مشکلات نے ان کے خاندان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔
میرین بلوچ کے مطابق جہاں پہلے ان کے والد کے کزن اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنما کامریڈ قیوم بلوچ کے اغواء کے بعد ان کی مسخ شدہ لاش سامنے آئی تو دو ماہ قبل مقتول قیوم کے چھوٹے بھائی داد بخش لاپتہ ہوگئے اور بیس دن کے بعد جب وہ منظرِ عام پر آئے تو وہ’نارمل‘ نہیں رہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
احمد علی بلوچ کے ایک عمر رسیدہ کزن پچھہتر سالہ منشی محمد بخش بھی اس وقت لاپتہ ہیں۔ ان کے اغواء کا مقدمہ ایف سی اہلکاروں پر دائر کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ بلوچستان میں موجود ایف سی سیاسی کارکنوں کی گمشدگی اور مسخ شدہ لاشوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتی رہی ہے اور اسے بلوچ علیحدگی پسندوں کی آپس میں چپقلش کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔
میرین بلوچ نے الزام عائد کیا ہے کہ جس علاقے میں وہ رہائش پذیر ہیں وہاں کے دکانداروں اور ٹرانسپورٹروں کو بھی ہراساں کیا گیا ہے کہ اس خاندان کو کسی نے اپنی گاڑی میں سوار کیا یا دکانداروں نے راشن فروخت کیا تو اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی سلوک کیا جائے گا۔
میرین بلوچ کے مطابق احمد علی بلوچ کے چار بیٹوں سمیت خاندان کے ساٹھ کے قریب نوجوان دربدر ہوگئے ہیں اور ان کی تعلیم، کاروبار اور کاشت کاری سب کچھ متاثر ہو رہا ہے۔
احمد علی بلوچ وطن کے علاوہ اپنے بچوں سے بھی دور چلے گئے ہیں جن میں ان کی اپنی مرضی شامل نہیں۔ میرین بلوچ کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی اب واپسی ممکن نہیں کیونکہ اگر وہ واپس آئے تو انہیں مار دیا جائے گا۔







