ہندو برادری کی شکایات کے ازالے کے لیے کمیٹی کا قیام
ہندو برادری کی شکایات کے ازالے کے لیے کمیٹی کا قیام

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے صوبہ سندھ میں مقیم ہندوؤں کی شکایات کے ازالے کے لیے صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر وفاقی حکومت کی تین رکنی ٹیم تشکیل دے گئی ہے جو سنیچر کو سکھر میں ہندو برادری کے عمائدین سے ملاقات کرے گی۔
کمیٹی میں وفاقی وزیر مولا بخش چانڈیو، سینیٹر ہری رام کشوری لال اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر لال چند شامل ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق کمیٹی کے ارکان اتوار کو جیکب آباد بھی جائیں گے اور وہاں کے مقامی ہندو رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔
صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق صدر نے سندھ میں بسنے والے ہندوؤں میں عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے احساس کے بارے میں پاکستان میڈیا میں آنے والی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے یہ کمیٹی تشکیل دی ہے۔
ترجمان کے مطابق کمیٹی ہندو عمائدین سے یکجہتی کا اظہار کرے گی اور حکومت کی جانب سے ان کے تحفظ کا یقین دلائے گی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بدامنی اور شدت پسندی کی وجہ سے بلوچستان اور سندھ سے ہندو برادری کے افراد بھارت ہجرت کررہے ہیں اور یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال کی بنا پر اطلاعات ہیں کہ بلوچستان اور سندھ سے ہندو برادری کے لوگ بھارت ہجرت کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ ہیومن رائٹس کمیش آف پاکستان نے ہندوؤں کے بھارت ہجرت کرنے کا واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت اقلیتیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔
جمعہ کو بھارت جانے والے دو سو تیئیس یاتریوں کا تعلق سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تھا۔ ان لوگوں میں زیادہ تعداد ان یاتریوں کی تھی جنہیں اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے بھارت کے شہر اندور جانا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاتریوں کا کہنا تھا کہ انھیں اقلیت ہونے کی سزا دی جا رہی ہے جبکہ فیڈرل انویسٹگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حکام کا کہنا ہے کہ یاتریوں کی دستاویزات مکمل نہیں تھیں۔
یہ لوگ جمعہ کی صبح چھ بجے سے سرحد پار کرنے کے لیے واہگہ بارڈر پر موجود تھے لیکن انھیں کوئی واضح وجہ بتائے بغیر امیگریشن حکام نے بھارت جانے سے روکے رکھا۔
یاتریوں کے سربراہ سنتوش پوری کا کہنا تھا کہ ہندوؤں کے بھارت جانے کے معاملے پر سیاست کی جا رہی ہے جبکہ یاتریوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں وہ اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد واپس پاکستان آئیں گے۔
کشمور کے نارائن داس کا کہنا تھا کہ انھیں ہندو ہونے کی سزا دی جا رہی ہے اور اگر وہ پاکستان چھوڑنا چاہیں تو کوئی انھیں روک نہیں سکتا۔ ان کے مطابق ’اگر رحمان ملک کو ہندوؤں سے اتنی محبت ہے تو وہ ملک کے حالات بہتر بنائیں‘۔
یاتریوں کے جتھےدار راجے سنگھ واہگہ بارڈر پر فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی ایف آئی اے کے حکام سے بات چیت کرتے رہے بالاخر تین بجے کے قریب یاتریوں کی امیگریشن کا عمل شروع کر دیا گیا اور انھیں بھارت جانے کی اجازت دے دی گئی ـ
فیڈرل انویسٹگیشن ایجنسی کے ترجمان ہارون میر نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارت جانے کے خواہشمند یاتریوں کے پاس وزارت داخلہ کا ایک خط موجود نہیں تھا۔ ان کے مطابق کاغذات پورے نہ ہونے پر یاتریوں کو روکنا معمول ہے اور میڈیا کی رپورٹنگ کے باعث اس واقعے کو ہوا ملی ـ
خیال رہے کہ دو روز پہلے ذرائع ابلاغ میں کچھ ایسی رپورٹس منظرعام پر آئیں تھیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ سندھ کے علاقے جیکب آباد سے کئی ہندو عدم تحفظ کے باعث مستقل طور پر بھارت منتقل ہورہے ہیں۔ ان اطلاعات کے بعد وزیر داخلہ رحمان ملک کا یہ بیان بھی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوا جس میں انھوں نے ہندوؤں کی نقل مکانی کو پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا تھا۔
اجازت کی شرط وطن واپسی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کی وزارتِ داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے بھارت جانے کے خواہش مند دو سو سے زائد ہندو یاتریوں کو پاکستان واپسی کی شرط پر ہی ملک چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔
وزارتِ داخلہ نے بڑی تعداد میں ہندوؤں کے بھارت جانے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی قائم کی تھی جس کی سربراہی ایف آئی اے کے لاہور کے ڈائریکٹر کر رہے تھے۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا کہ اس کمیٹی کو یہ مینڈیٹ دیا گیا تھا کہ وہ تین پہلوؤں پر اس معاملے کی چھان بین کرے۔
ایک یہ کہ اتنی بڑی تعداد میں ہندو بھارت کیوں جا رہے ہیں دوسرا یہ کہ بھارت یاترا کے لیے جانے والے یہ ہندو خاندان پہلے کتنی مرتبہ بھارت جاچکے ہیں اور تیسرا یہ کہ وہ بھارت جانے والے ہندوں کی مالی اور سماجی حیثیت کیا ہے۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اس کمیٹی کو سندھ میں ایف آئی اے کے اہلکاروں نے مذکورہ ہندوؤں کے بارے میں دستیاب دستاویزات سے آگاہ کیا ۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ چھان بین کے بعد جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق ایک بجے تک دو سو تیس افراد میں سے صرف چھ افراد کو جانے کی اجازت دی گئی۔
تاہم واہگہ بارڈر پر رُوکے گئے دیگر یاتریوں کی جانب سے امتیازی سلوک کے خلاف مظاہرہ کرنے پر ایف آئی کے حکام نے اُنہیں بھی بھارت جانے کی اجازت دے دی۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق یہ کمیٹی اس لیے قائم کی گئی تھی چونکہ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں یہ خبریں آ رہی تھیں کہ سندھ کے علاقے جیکب آباد اور صوبہ بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور ہندوں کے اغواء برائے تاوان کے واقعات میں اضافے کے بعد وہاں کی مکین ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی تعداد نے بھارت میں مستقل رہائش رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ وزیر داخلہ رحمان ملک نے جمعرات کو میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہہ کر ان ہندو یاتریوں کو بھارت جانے سے روک دیا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں ہندو کو ویزے جاری کرنا پاکستان کے خلاف سازش ہے اور صرف اُنہی افراد کو مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیے بھارت جانے کی اجازت دی جائے گی جنہیں وزارت داخلہ این او سی جاری کرے گی۔
اس کے برعکس سندھ حکومت کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ اُنہوں نے اس معاملے کی چھان بین کے لیے ایک کمیٹی بنا دی ہے۔ سندھ حکومت کے مطابق سالانہ سینکٹروں ہندو مذہی رسومات ادا کرنے کے لیے تین سے چار ہفتوں کے لیے بھارت جاتے ہیں اور مذہبی رسومات ادا کرنے کے بعد واپس آجاتے ہیں۔
بی بی سی کے بارہا رابطہ کرنے پر وزیر داخلہ اور سیکرٹری داخلہ سمیت کوئی بھی ذمہ دار شخص اس سوال کا جواب دینے کو تیار نہیں تھا کہ ہندوؤں کے علاوہ بڑی تعداد میں مسلمان زائرین بھی ہر سال بھارت جاتے ہیں لیکن اس کی وجوہات جاننے کے لیے کبھی کوئی تحقیقاتی کمیٹی کیوں نہیں بنائی گئی۔
وزیر داخلہ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کو بھی ہدایت کی تھی کہ وہ اس بات کی تحقیقات کریں کہ بھارتی ہائی کمیشن نے اتنی بڑی تعداد میں ہندوں کو کیوں ویزے جاری کیے تاہم ابھی تک اس ضمن میں ایف آئی اے کے کسی اہلکار نے بھی بھارتی ہائی کمیشن سے رابطہ نہیں کیا۔
’حکومت نے ہتھیار ڈال دیے‘
پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے ملک سے ہندوؤں کے بھارت ہجرت کرنے کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایچ آر سی پی کی سربراہ زہرہ یوسف نے بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے اور سندھ اور بلوچستان میں خاص کر یہ رجحان شروع ہوا ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں ہندو برادری کے لوگوں سے ہماری ملاقات ہوئی تھی اور ان کا یہی کہنا تھا کہ وہاں ہندو برادری کے کئی تاجر اغوا ہو رہے ہیں اور کئی واقعات میں انہوں نے تاوان بھی ادا کیا لیکن پھر بھی مغویوں کو مار دیا گیا۔‘
زہرہ یوسف کا کہنا تھا کہ ہندو برادری کے مطابق بلوچستان سے اب تک پچاس خاندان جا چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں اغوا کے علاوہ لڑکیوں کے مذہب تبدیل کروانے کے واقعات بھی تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے اس حوالے ریاست کا جو رد عمل رہا ہے وہ بہت ہی مایوس کن ہے ’حکومت نے اب تک اس حوالے سے خاص توجہ نہیں دی اور اب چونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ایک طرح سے مسئلہ بن رہا ہے جو ہو سکتا ہے ہندوستان بھی اس کو اٹھائے اس لیے وزیر داخلہ روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
یچ آر سی پی کی سربراہ زہرہ یوسف کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس مسئلے کو کئی بار اعلی حکام کے سامنے اٹھایا۔ ’بلوچستان میں ہماری ملاقات گورنر سے بھی ہوئی چیف سیکرٹری سے بھی ہوئی سندھ میں وزیر اعلیٰ سے ملاقات نہیں ہوئی ہے مگر کئی کیسز ہیں جن کے سلسلے میں ہم لوگ وزیراعلی تک رسائی کر چکے ہیں جن میں مذہب کی تبدیلی کے کیسز شامل ہیں۔‘
زہرہ یوسف کے مطابق ’اصل میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں مذہبی انتہا پسندی پھیل رہی ہے اور جس کو روکا نہیں جا رہا۔اس کی وجہ سے جو غیر مسلم ہیں بلکہ مسلمانوں میں بھی جو اقلیتیں ہیں وہ ظاہر ہے زیادہ غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔‘
اس سوال پر کہ اگر کوئی اقلیتی گروہ مذہبی مقاصد سے پاکستان سے باہر جانا چاہتا ہے تو کیا اسے روکا جا سکتا ہے زہرہ یوسف کا جواب تھا ’بالکل نہیں پاکستان ہندوستان پر اس حوالے سے تنقید کر چکا ہے جب ایک دفعہ کچھ سکھ یاتریوں کو سکیورمی وجوہات کیے باعث روکا تھا۔ ‘ بقول زہرہ یوسف ایسا کرنا نا انصافی ہے اور کوئی شخص مذہبی یا ذاتی کسی بھی وجہ سے دوسرے ملک جارہا ہو اگر اس کے پاس درست سفری دستاویزات ہیں تو اسے روکنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
ریاست کی جانب سے اس حوالے سے اقدامات پر انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ کا کہنا تھا ہے کہ ’ریاست کی جانب سے کوئی اقدامات کیے ہی نہیں گئے۔‘
زہرہ یوسف کے بقول ’ایسا لگتا ہے کہ ریاست نے انتہا پسند گروہوں کے سامنے ہتھیار ڈال دئے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’شیعہ طبقے کے خلاف کھلے بیانات دیے جاتے ہیں اور عدالت بھی انتہا پسندوں کو رہا کر دیتی تو اس سے عدم برداشت کا عمومی ماحول بڑھ ہی سکتا ہے کم نہیں ہو گا۔‘
ریڈیو رپورٹس
پاکستان سے تعلق رکھنے والے کئی ہندو خاندانوں نے بھارتی ریاست راجستھان میں مستقل سکونت اختیار کر لی ہے اور وہ واپس پاکستان جانا نہیں چاہتے۔ اس معاملے کی وجہ جاننے کے لیے سنیے نامہ نگار نرائن باریٹھ کی رپورٹ۔
پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے ملک سے ہندوؤں کے بھارت ہجرت کرنے کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سنیے ایچ آر سی پی کی سربراہ زہرہ یوسف کی بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں سے بات چیت۔
لاہور میں ایف آئی اے کے اہلکار ہارون میر کے مطابق ہندو یاتریوں کو روکنا ملک اور قوم کی عزت کا معاملہ تھا۔ سنیے بی بی سی اردو کی نامہ نگار شمائلہ جعفری سے ہارون میر کی گفتگو
پاکستان سے ہندو خاندانوں کے ہجرت کرنے کے معاملے پر بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ اور پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیر مکیش کمار چاؤلہ کا کہنا ہے کہ بھارت جانے والے تمام ہندو یاتری ہیں اور وہ سب واپس آئیں گے۔ سنیے صوبائی وزیر کی بی بی سی اردو کے فراز ہاشمی سے گفتگو۔







