’بی بی سی کے نامہ نگار کو دھمکیاں تشویش ناک‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک عالمی تنظیم نے کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کو بلوچ لبریشن فرنٹ کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد شہر چھوڑنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
‘رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز’ نامی تنظیم نے اپنے جاری کردہ بیان میں حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ متعلقہ گروہ کے خلاف کارروائی کرے اور ایوب ترین کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچ لبریشن فرنٹ کے ترجمان بشام بلوچ کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کوئٹہ شہر چھوڑ کر نامعلوم مقام پر منتقل ہوچکے ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ‘ہم ان دھمکیوں کو بہت سنجیدہ سمجھتے ہیں اور مقامی حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے بہتر اقدامات اٹھائیں’۔
تنظیم نے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے معاملہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے موقف کی تائید کی ہے۔ ‘جب تک متعلقہ حکام میڈیا پر حملے کرنے والوں کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کریں اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائیں، ہمیں خدشہ ہے کہ آنے والے ہفتوں میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوگی’۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایوب ترین نے تنطیم کو بتایا ہے کہ بلوچ لبریشن فرنٹ کی جانب سے ان کی سرگرمیوں کے بارے میں جانبدارانہ رپورٹنگ کے الزامات اور دھمکیوں کے بعد وہ کوئٹہ شہر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ نیوز ایجنسی این این آئی سے جاری کردہ بلوچ لبریشن فرنٹ کے ترجمان بشام بلوچ کا وہ بیان کئی اخبارات کو موصول ہوا ہے، جس کے مطابق انہوں نے ایوب ترین کے جانبدارانہ رویے کی وجہ سے بی بی سی اردو سروس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ بشام بلوچ نے مزید کہا ہے کہ ‘ہم بی بی سی کے اعلیٰ حکام کو مطلع کرتے ہیں کہ وہ اپنے نمائندے کے جانبدارانہ رویے کا نوٹس لیں ورنہ ہم سخت کارروائی کرنے پر مجبور ہوں گے’۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے ان دھمکیوں کی مذمت کی ہے اور ‘بی ایل ایف’ کی کوریج کے لیے دباؤ ڈالنے کے اقدامات کو انتہائی غیر جمہوری، غیر سیاسی اور غیر اخلاقی قرار دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ گزشتہ برس بھی ‘بی ایل ایف’ نے ایوب ترین کو دھمکیاں دی تھیں اور انہوں نے عارضی طور پر شہر چھوڑ دیا تھا۔
یاد رہے کہ پاکستان میں رواں سال اب تک چھ صحافی قتل ہوچکے ہیں۔ پاکستان سنہ دو ہزار گیارہ اور بارہ کے لیے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی جانب سے جاری کردہ ایک سو اناسی ممالک کی فہرست میں ایک سو اکیاونویں نمبر پر ہے۔ بلوچستان صحافیوں کے لیے دنیا کا دسویں بڑی حظرناک جگہ قرار دی جاچکی ہے۔







