’پاکستان میں مذہبی آزادی پر قدغنیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکی حکومت نے دنیا بھر میں مذہبی آزادیوں پر جاری کی گئی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں مذہبی اقلیتیوں کی آزادی کی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے بیورو برائے جمہوریت و انسانی حقوق کی طرف سے جاری کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان کا آئین ، قوانین اور حکومتی پالیسیاں ملک میں مذہبی آزادی پر قدغن لگاتے ہیں اور حکومت عملی طور پر ایسی پابندیوں کا نفاذ کرتی ہے۔
نیویارک سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار حسن مجتبیٰ کے مطابق رپورٹ میں پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو حاصل مذہبی آزدی و حقوق کا مفصل جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہاں لوگ مذہبی رواداری پر بولنے سے لوگ کترانے لگے ہیں کیونکہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور اقلیتوں کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل کے بعد ملک میں مذہبی عدم برداشت و تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توہین رسالت و دیگر امتیازی قوانین کے غلط استعمال کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں قانون نافذ کرنے والوں نے حوالات میں قید مذہبی اقلیتی لوگوں پر تشدد کیا ہے۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کے قتل کے بعد حکومت نے مذہبی برداشت اور مذہبی آزادیوں کا تحفظ کرنے کے لیے کچھ اقدامات بھی اٹھائے ہیں جن میں وزارت اقلیتی امور میں اختیارات کی عدم مرکزیت کے بعد محکمۂ قومی یکجہتی کا قیام اور اقلیتوں کے امور کے مشیر کا تقرر شامل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سماجی سطح پر مذہبی اقلتیوں اور مذہبی رواداری کا پرچار کرنے والے مسلمانوں کے خلاف تشدد، عدم برداشت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور انتہا پسند گروہوں کی طرف سے مذہبی رواداری کا پرچار کرنے والے مسلمانوں، صوفیوں کی درگاہوں اور مذہب اسلام کے مختلف عقائد رکھنے والوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں حکومت مسلمانوں کی اکثریت اور دیگر اقلیتوں کو ایک جیسے حقوق دینے کی متحمل ہی نہیں ہو سکتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس رپورٹ میں پاکستان میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے اعدادوشمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دو ہزار گیارہ میں توہین رسالت کے قانون کے تحت انچاس مقدمے دائر کیے گئے جن میں سے آٹھ میں عیسائیوں، دو میں احمدیوں اور انتالیس مقدمات میں مسلمانوں کو ملزم نامزد کیا گیا۔
اسی طرح انیس سو ستاسی سے لے کر دو ہزار گیارہ تک ایک ہزار ایک سو سترہ افراد پر توہین رسالت کے قانون کے تحت فرد جرم عائد کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں شیعہ عقیدے سے تعلق رکھنے والی ہزارہ برادری کے افراد پر حملوں اور انہیں قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جن میں سے کئی حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت مذہبی اقلیتوں کو تحفظ دینے اور ان پر حملوں کے ذمہ دار افراد کو پکڑنے میں مکمل طرح ناکام ہوگئی ہے اور ایسے جتھوں کو اپنی کارروائیوں میں چھوٹ حاصل ہے ۔







