’حقانی، لشکرِ طیبہ کے خلاف کارروائی موثر نہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکی انتظامیہ نے ایک نئی رپورٹ میں مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کا اتحادی ملک پاکستان حقانی نیٹ ورک اور لشکرِ طیبہ کے خلاف کارروائی میں موثر کردار ادا نہیں کر رہا۔
امریکہ نے یہ بات دہشت گردی کی رپورٹ 2011 میں اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے القاعدہ کے خلاف موثر کارروائیاں کیں جس کے باعث القاعدہ کافی حد تک کمزور ہو چکی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے القاعدہ کے ساتھ ساتھ کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے خلاف بھی مؤثر کارروائیاں کی ہیں۔ ’تاہم دیگر دہشت گرد تنظیموں جیسے کہ لشکرِ طیبہ کے خلاف کارروائیاں کافی نہیں ہیں۔‘
امریکی سالانہ رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں القاعدہ خود تو کافی کمزور ہو چکی ہے لیکن یہ تنظیم ابھی بھی خطرہ ہے کیونکہ اس نے دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ روابط قائم کر رکھے ہیں جیسے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور حقانی نیٹ ورک۔
’پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود القاعدہ کے رہنماؤں پر مسلسل دباؤ ہے لیکن دیگر دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان ہی میں پناہ لینے کے مواقع مل رہے ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق ان دہشت گردوں کو پاکستان میں پناہ ملنے کے باعث افغان طالبان، لشکرِ طیبہ اور حقانی نیٹ ورک خطے میں حملے کر رہے ہیں جبکہ پکستانی طالبان پاکستان میں حملے کر رہے ہیں۔
سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے ’پاکستانی فوج نے القاعدہ اور تحریکِ طالبان پاکستان کے خلاف کارروائیاں کیں جن میں فوج کو نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ لیکن پاکستان کی جانب سے دیگر تنظیموں جیسے کہ حقانی نیٹ ورک اور لشکرِ طیبہ کے خلاف کارروائیاں اتنی موثر نہیں کی گئیں۔
امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے علاوہ پاکستان کی پارلیمان، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اور سپریم کورٹ کا زیادہ تر وقت کراچی میں سیاسی اور نسلی فسادات میں مصروف رہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سنہ دو ہزار گیارہ میں دہشت گردی کے واقعات میں ڈھائی ہزار سے زیادہ شہری اور چھ سو ساٹھ قانون نافذ کرنے والے اہلکار ہلاک ہوئے۔
امریکی انتظامیہ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کا جانب سے دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیمیں پابندیوں سے بچی رہیں اور انہوں نے نام تبدیل کر کے دوبارہ کام شروع کردیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کو مزید سخت کرنے پر زور دیا لیکن پارلیمان نے یہ ترامیم منظور نہیں کیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے مقدمات میں ملزمان کے بری ہونے کی شرح 85 فیصد ہے۔
رپورٹ کے مطابق پچھلے سال ستر ممالک میں دس ہزار دہشت گردی کے واقعات ہوئے جن میں ساڑھے بارہ ہزار افراد کی ہلاکت ہوئی۔ تاہم پچھلے سال دو ہزار دس کے مقابلے میں ایسے واقعات میں بارہ فیصد کمی آئی۔
دہشت گردی کے ان واقعات میں سے 75 فیصد واقعات جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں ہوئے۔ ان واقعات میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر مسلمان تھے۔
ان 75 فیصد واقعات میں سے زیادہ تر واقعات تین ممالک پاکستان، افغانستان اور عراق میں ہوئے۔







