رچرڈ اولسن پاکستان میں نئے امریکی سفیر نامزد

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکی صدر باراک اوباما نے پاکستان اور اس کے ہمسایہ ملک افغانستان کے لیے اپنے نئے سفیروں کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔
دریں اثناء پاکستان میں سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر کیمرون منٹر نے اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری سے ایوان صدر میں الوداعی ملاقات کی ہے۔
<link type="page"><caption> نیٹو سپلائی کی بحالی سے بات ختم نہیں ہو جاتی: امریکی سفیر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/07/120710_ambassador_munter_iv_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
پاکستان میں رچرڈ اولسن کو نیا سفیر نامزد کیا گیا ہے جو اس سے پہلے متحدہ عرب امارات میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں جبکہ افغانستان میں جیمز کننگھم کو نیا امریکی سفیر مقرر کیا گیا ہے۔
نامزد کیے جانے والے دونوں سفیروں کے ناموں کی امریکی ایوان نمائندگان کے ایوان بالا یا سینیٹ سے توثیق کرانا ہو گی۔
رچرڈ اولسن اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر کمیرون منٹر کی جگہ لیں گے۔
کیمرون منٹر نے اس سال مئی میں اٹھارہ ماہ سفیر رہنے کے بعد اس عہدے سے سبکدوش ہونے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی میگزین فارن پالیسی کے مطابق رچرڈ اولسن سنہ دو ہزار گیارہ سے افغانستان میں امریکی سفارتخانے میں ترقیاتی اور معاشی امور کے ڈائریکٹر ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تعیناتی سے قبل وہ متحدہ عرب امارات کے سفیر تھے۔ اس کے علاوہ وہ میکسیکو، سعودی عرب، تیونس، عراق سمیت کئی ممالک میں فرائص سرانجام دے چکے ہیں۔
دریں اثناء پاکستان میں موجودہ امریکی سفیر کیمرون منٹر نے اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری سے ایوان صدر میں الوداعی ملاقات کی ہے۔
پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق صدر زرداری نے کیمرون منٹر کی سفارتی مہارت، پاک امریکہ سٹریٹجک مذاکرات میں ان کے کردار اور نہایت نازک وقت میں پاک امریکہ تعلقات کو تقویت دینے اور مستحکم کرنے میں ان کی معاونت کو سراہا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
خیال رہے کہ سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر کمیرون منٹر نے چھبیس اکتوبر سال دو ہزار دس میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔
کمیرون منٹر کے دور میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کئی نشیب و فراز آئے۔
ستائیس جنوری سال دو ہزار گیارہ میں لاہور میں دو پاکستانی شہریوں کے قتل کے الزام میں امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس گرفتار ہوئے اور سولہ مارچ کو رہا کر دیے گئے۔
اس واقعہ پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی ابھی کم ہونا شروع ہی ہوئی تھی کہ دو مئی کو ایبٹ آباد میں یکطرفہ امریکی کارروائی میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن ہلاک ہو گئے۔اسی سال چھبیس نومبر کو پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں افغان سرحد پر پاکستانی فوج کی چوکیوں پر نیٹو کے حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ آیا۔
دسمبر دو ہزار گیارہ میں امریکہ فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر ایڈمرل مائیک مولن نے بیان دیا کہ شدت پسند گروہ حقانی نیٹ ورک پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا آلہ کار ہے۔ اس پر پاکستانی فوج نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
فروری دو ہزار بارہ میں امریکی ایوانِ نمائندگان کی امورِ خارجہ کی کمیٹی میں بلوچستان کی صورتحال پر عوامی سماعت کے دوران کہا کہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اس شورش زدہ صوبے کے حالات معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرے۔ اس بیان کے بعد پاکستان میں عوامی اور حکومتی سطح پر شدید احتجاج کیا گیا اور اسے ملکی کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا گیا۔
اس وقت جب کیمرون منٹر سبکدوش ہو رہے ہیں تو امریکی کی سلالہ چیک پوسٹ پر واقعہ پر معذرت کے بعد پاکستان کی جانب سے نیٹو سپلائی بحال کرنے کا اعلان کیا جا چکا ہے اور دونوں ممالک میں اب بار پھر اعتماد کی بحالی کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔
چند دن پہلے امریکی سفیر کیمرون منٹر نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لیے رسد کے زمینی راستے کی بحالی کے باوجود، بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی انہیں ابھی اقتصادی تعاون اور پاکستان میں موجود دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔
اس انٹرویو کے تناظر میں پاکستان آنے والے نئی امریکی سفیر رچرڈ اولسن کو مختلف محاذوں پر سخت چینلجز کا سامنا ہو گا۔







