استرزئی میں فرقہ وارانہ نوعیت کا پہلا واقعہ

مقامی صحافی سمیع یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ علاقہ لوئر اورکزئی ایجنسی کے ساتھ ملا ہوا ہے اور اس علاقے کو فوج نے شدت پسندوں سےصاف کیا تھا اسی وجہ سے اس علاقے کو دیگر علاقوں کی نسبت محفوظ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمقامی صحافی سمیع یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ علاقہ لوئر اورکزئی ایجنسی کے ساتھ ملا ہوا ہے اور اس علاقے کو فوج نے شدت پسندوں سےصاف کیا تھا اسی وجہ سے اس علاقے کو دیگر علاقوں کی نسبت محفوظ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع کوہاٹ کے سرحدی علاقے میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کی گاڑی پر طاقتور بارودی سرنگ سے حملہ ہونا اس علاقے میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

اس سے پہلے اس شاہراہ پر یا اس علاقے میں اس طرح کا واقعہ کبھی پیش نہیں آیا۔

مقامی حکام کے مطابق آج صبح سویرے تنگہ بازار کے مقام پر اینٹی ٹینک بارودی سرنگ جسے پی ٹو مارک ٹو کہا جاتا ہے نصب کی گئی تھی۔

شیعہ افراد سے بھری پک اپ گاڑی اورکزئی ایجنسی کی جانب سے آ رہی تھی کہ اس بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔ اس کے نتیجے میں کم سے کم بارہ افراد ہلاک ہوگئے جبکہ بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ تعداد چودہ ہے۔

یہ واقعہ تنگہ بازار کے علاقے میں پیش آیا جو بنیادی طور پر کوہاٹ کے تھانہ استرزئی کی حدود میں آتا ہے۔ یہاں سے اورکزئی ایجنسی کی سرحد صرف ایک کلومیٹر دور ہے جہاں سے یہ گاڑی آرہی تھی۔

استرزئی کے اس علاقے میں شیعہ مسلک کے افراد کی اکثریت ہے اور یہاں کبھی کوئی فرقہ وارانہ نوعیت کا ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔

پولیس حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں جس کے بعد معلوم ہو سکےگا کہ اس واقعے کی نوعیت ذاتی دشمنی ہے یا یہ شدت پسندی سے متعلقہ کوئی واقعہ ہے۔

مقامی صحافی سمیع یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ علاقہ لوئر اورکزئی ایجنسی کے ساتھ ملا ہوا ہے اور اس علاقے کو فوج نے شدت پسندوں سے صاف کیا تھا اسی وجہ سے اس علاقے کو دیگر علاقوں کی نسبت محفوظ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب کوہاٹ کے شمال میں کرم اور اپر اورکزئی ایجنسیاں واقع ہیں۔ جبکہ پاڑہ چنار ، ہنگو اور دیگر علاقے ایسے ہیں جہاں مذہبی شدت پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات معمول سے پیش آتے رہے ہیں۔

پاڑہ چنار کے راستے میں سنی مسلک اور شیعہ مسلک کے اپنے اپنے علاقے ہیں اور ایک دوسرے کے فرقے کے افراد پر حملے ہونا معمول کی بات ہے۔ جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہو چکی ہیں لیکن اب کچھ عرصہ سے یہاں بھی فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش نہیں آئے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں دھڑوں کے درمیان معاہدے کے بعد سے تشدد کے واقعات بڑی حد تک کم ہو گئے ہیں۔

بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو اس کشیدگی اور راستوں کے خطرات کی وجہ سے کئی سالوں تک اپنے گھروں کو نہیں جا سکے۔ اس میں طلبا، مزدور ، تاجر اور سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں۔

مقامی صحافی سمیع پراچہ کے مطابق اس علاقے میں حقانی نیٹ ورک کے افراد کے آنے کے بعد کشیدگی کافی حد تک کم ہو گئی ہے اس لیے تشدد کے واقعات پیش نہیں آ رہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ اس علاقے میں اب کافی حد تک امن ہے لیکن پھر بھی لوگوں کے دلوں میں خوف پایا جاتا ہے ۔

آج ہونے والے تازہ واقعے کے بعد مبصرین کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں ہلاکتوں پر لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے اور ان کے خیال میں اس واقعہ کی چھان بین صحیح طریقے سے ہونی چاہیے تاکہ شدت پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی روک تھام ہوسکے۔