تربت:اٹھارہ ہلاک شدگان کی شناخت، لاشیں کراچی روانہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بلوچستان کےعلاقے تربت میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والےاٹھارہ افراد کی لاشیں کراچی روانہ کردی گئیں جو غیرقانونی طور پر ایران جا رہے تھے۔
ادھر بلوچستان میں اعلیٰ حکام نے تربت کے ڈپٹی کمشنر کو غفلت برتنے پر معطل کر دیا ہے۔
ہلاکتوں کا یہ واقعہ جمعہ کی شب ایرانی سرحد سے نوے کلومیٹر دور پاکستانی حدود میں ہورشولی کے مقام پر اس وقت پیش آیا تھا جب غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے افراد کی گاڑیوں پر موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی تھی۔
سنیچر کو حکام نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد کی لاشیں سول ہسپتال تربت منتقل کر دی گئیں جہاں پانچ افراد کی لاشوں کو شناخت کے بعد کراچی روانہ کر دیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیرِاعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے اس واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے اور تربت کے ڈپٹی کمشنر تربت اسلم ترین کی معطلی بھی اسی سلسلے کا نتیجہ ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلم ترین کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنر تربت مقبول رند کے خلاف بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر تربت اسلم ترین نے معطلی سے قبل کوئٹہ میں ہمارے نامہ نگار ایوب ترین سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان گاڑیوں میں غیر قانونی طور پر ایران جانے والے افراد سوار تھے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ تربت کے علاقے ہور شولی کے مقام پر پیش آیا۔ ’یہ علاقہ نہایت دشوار گزار اور دور دراز ہے۔ اس علاقے میں عام گاڑیاں نہیں چل سکتیں کیونکہ یہاں کچی سڑکیں ہیں۔ یہاں صرف موٹر سائیکلیں اور جیپیں چلتی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈپٹی کمشنر اسلم ترین کے مطابق انسانی سمگلرز پہلے تربت سے پاک ایرانی سرحد کے پوائنٹ مند کی جانب ان افراد کو لے کر جاتے تھے لیکن ماضی میں چند واقعات پیش آئے ہیں جن میں ان گاڑیوں میں سے آباد کاروں کو اتار کر ہلاک کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
’ان واقعات کے بعد ہم نے سکیورٹی سخت کردی تھی۔ اب یہ سمگلرز سرحد کے ساتھ ساتھ واقع ہور شولی کے علاقے میں واقع راستے کو اپناتے ہیں۔‘
اسلم ترین نے بتایا کہ انسانی سمگلرز ان افراد کو دو پک اپ گاڑیوں اور ایک لینڈ کروزر میں لے کر جا رہے تھے۔ ان کے مطابق غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے افراد میں زیادہ تر افراد افغان اور ازبک تھے اور کچھ پنجابی بھی تھے۔
گوادر سے مقامی صحافی بہرام بلوچ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے تیرہ کا تعلق صوبہ پنجاب اور پانچ کا تعلق افغانستان سے ہے۔
واقعے کے بعد چھ افراد تین موٹر سائیکلوں پر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔







