نیٹو سپلائی کی بحالی، اڈوں پر خوف کی فضا

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
افغانستان میں موجود نیٹو افواج کو پاکستان کے زمینی راستے سے رسد کی ترسیل کی بحالی کے اعلان کے بعد پشاور میں اب تک نیٹو ٹینکرز اور کنٹینرز کے اڈوں پر کوئی قابل ذکر سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملی بلکہ ان اڈوں پر سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ایک خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی رنگ روڈ پر بڑے کنٹینرز، ٹرک، ٹینکرز اور دیگر سامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہونی والی گاڑیوں کے درجنوں اڈے یا ٹرمینلز موجود ہیں۔ ان میں کم سے کم پانچ ٹرمینلز نیٹو افواج کو سامان فراہم کرنے والی گاڑیوں کے لیے مختص ہیں۔
پاکستان حکومت کی جانب سے نیٹو رسد کی بحالی کے اعلان کے بعد جب رنگ روڈ پر ان ٹرمینلز کا دورہ کیا تو ان ٹرمینلز میں موجود بیشتر افراد نے صاف کہہ دیا کہ یہاں نیٹو کے سامان سے بھری گاڑیاں نہیں آتیں۔
رنگ روڈ پر ایک ٹرمینل میں موجود نجی سکیورٹی ایجنسی کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابھی تو اعلان ہوا ہے اور اس کے لیے یہاں ٹرمینل میں تو سب تیاریاں مکمل ہیں لیکن گاڑیوں کے پہنچنے میں وقت زیادہ لگے گا۔
اس ٹرمینل کے گیٹ بند تھے اور چاروں طرف لوہے کی سلاخوں کی اونچی دیوار بنائی گئی تھی جس سے اندر خالی کنٹینرز تو نظر آ رہے تھے لیکن وہاں گاڑیاں نہیں تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس ٹرمینل سے کچھ فاصلے پر ایک اور ٹرمینل میں موجود افراد نے صاف کہہ دیا کہ یہاں تو نیٹو افواج کو سامان پہنچانے والی گاڑیاں آتی ہی نہیں ہیں۔
پاکستان ٹینکرز ایسوسی ایشن کے ترجمان اسرار خان شنواری نے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا کہ کراچی سے پشاور پہنچنے کے لیے ٹینکرز اور کنٹینرز کو دس سے بارہ روز لگ سکتے ہیں اس لیے اب تک پشاور میں کوئی سرگرمی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ سکیورٹی کے زیادہ خدشات پائے جاتے ہیں اور اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان ٹینکرز اور کنٹینرز کو سکیورٹی فراہم کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پشاور میں ان بڑی گاڑیوں کے گزرنے سے سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہو گئی تھی اور سپلائی کی معطلی کے دنوں میں بیشتر مقامات پر حکومت نے سڑکوں کی مرمت کر لی ہے۔
ان میں رنگ روڈ کے بیشتر حصے کی مرمت ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ کارخانوں مارکیٹ کے سامنے سڑک کی مرمت مکمل کر لی گئی ہے۔







