پولیو ویکسین ڈرون حملوں سے مشروط

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے بعد جنوبی وزیرستان میں بھی مُلا نزیر گروپ کے مقامی طالبان نے ڈرون حملے جاری رہنے تک ویکسین اور پولیو کے خلاف مہم پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔
پابندی کے اعلان پر مشتمل ایک پمفلٹ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کیا گیا ہے جس کے مطابق اس پابندی کا اطلاق پیر سے ہوگا۔
پمفلٹ میں بتایاگیا ہے کہ عالم کُفر مُسلمانوں کے بہکانے کے لیے میڈیا، ویکسین، کھیل کود اور مخلوط تعلیمی ادراروں کا بے درغ استعمال کر رہا ہے۔
پیمفلٹ کے مطابق ویکسین کی آڑ میں امریکہ، اتحادی اور خُفیہ ادارے جاسوسی کے نیٹ ورک چلانے میں مصروف ہے جس کی مثال کے طور پر ڈاکٹر شکیل آفریدی کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
نامہ نگار دلاور خان وزیر نے بتایا کہ دو صفحوں پر مشتمل یہ پمفلٹ اُردو زبان میں ہے جو کہ کمپیوٹر پر تیار کیاگیا ہے اور اس میں آسان اردو کے استعمال کی بجائے اعلی پائے کی اردو اور محاورے استعمال کیے گئے ہیں۔
اس دستاویز کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں میں خواتین بچے اور بوڑھے مر رہے ہیں اور ڈرون طیاروں کی دن رات پروازوں سے ہر مقامی شخص ذہنی مریض بن گیا ہے اور اگر امریکہ اپنے عزائم میں مخلص ہوتے تو وہ مُسلمانوں پر اتنی بے جگری سے آگ و آہن کی بارش نہیں برساتے۔
تاریخی تناظر میں کہا گیا ہے کہ عراق کا ذکر بھی کیاگیا ہے کہ انیس نوے کی دہائی میں عراق پر امریکی حملے کے دوران تقریباً بیس لاکھ بچے ادویات اور خوارک کی عدم دستیابی کے باعث ہلاک ہوئے۔
اس میں یہ بھی بتایاگیا ہے کہ افغانستان میں ہر مہینے شادی اور دوسری تقریبات میں بمباری کر کے سینکڑوں شہری ہلاک کیے جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پمفلٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ امریکہ ایک طرف ہمیں قتل کر رہا ہے اور دوسری طرف ویکسین کی صورت میں بچایا جارہا ہے، یہ بات عقل سے بالاتر ہے۔
آخر میں اعلان کیا گیا ہے کہ ویکسین اور پولیو قطرے پلانے کی پابندی کا اعلان ڈرون حملوں سے مشرط ہے۔ جب تک وزیرستان میں ڈرون طیاروں کی پروازیں اور حملے جاری رہیں گی تب تک ویکسین اور پولیوں کے قطروں پر پابندی ہوگی۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے شمالی وزیرستان میں بھی حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے پولیو کےقطرے پلانے پر پانبدی لگانے کا اعلان کیا تھا۔







