پاکستانی معیشت کو بڑے چیلنجز کا سامنا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی معیشت کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے تاہم ماہرین امید کر رہے ہیں کہ رواں سال ترقی کی شرح چار فیصد تک پہنچ جائے گی۔

اقوام متحدہ کی ایشیائی معشیت سے متعلق یہ رپورٹ جمعرات کو اسلام آباد میں بھی جاری کی گئی۔

اقوام متحدہ کے ایشیاء سے متعلق معاشی اور معاشرتی سروے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں افراط زر کی شرح کئی برسوں سے کافی زیادہ ہے اورگزشتہ برس سیلاب کی تباہ کاریوں اور خوراک کی درآمد کی وجہ سے افراط زر چودہ فیصد رہی تاہم اس سال اس کے کم ہو کر بارہ فیصد ہونے کا امکان ہے۔

مالی سال سنہ دو ہزار دس میں پاکستان میں شرح نمو تین اعشاریہ آٹھ فیصد تھی جو کم ہو کرگزشتہ برس دو اعشاریہ آٹھ فیصد تک رہ گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں امن وامان کی خراب صورت حال، عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، ملک کے بڑے حصے میں آنے والے سیلاب، بجلی اور قدرتی گیس کی شدید قلت شرح نمو میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق حکومت پاکستان نے گزشتہ برس بھی شرح نمو چار فیصد ہونے کا دعوی کیا تھا تاہم اصل میں یہ بہت کم رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے اکثر ممالک کو بجٹ کے خسارے کا سامنا ہے اور اس ضمن میں پاکستانی حکومت کو اسے کم کرنے کے لیے شدید مشکلات درپیش ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بجٹ کے خسارے کی بڑی وجوہات میں سکیورٹی اخراجات میں اضافہ، مختلف اشیاء پر سبسڈی اور سیلاب کے معیشت پر برے اثرات شامل ہیں۔

رپورٹ میں ان ممالک کا بھی ذکر ہے جنہیں بجلی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ان میں پاکستان کے علاوہ نیپال اور بنگلہ دیش بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہاں پر بجلی اور قدرتی گیس کی شدید قلت نے صنعتی پیداوار بالخصوص ٹیکسٹائل اور کھاد کی صنعت کو بری طرح متاثر کیا ۔

رپورٹ میں بجلی اور قدرتی گیس کی قلت پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کے لیے تجاویز بھی دی گئی ہیں جس میں بجلی کی چوری کو روکنے کے علاوہ بجلی ضائع ہونے سے بچانے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ نے غربت کے خاتمے کے لیے پاکستان پر معاشی اصلاحات پر عملدرآمد، سرکاری محکموں کو مضبوط کرنے، گورننس میں بہتری اور ایسا نظام تشکیل دینے کی صرورت پر زور دیا جس کے تحت غریب طبقوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

رپورٹ میں بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے گیارہ ارب بیس کروڑ ڈالر بھجوانے سے زیر مبادلہ کے ذخائر میں بھی قابل ذکر حد تک اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔