ڈرون حملے قانونی اور اخلاقی ہیں: امریکہ

ڈرون حملوں میں نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان اور یمن میں بھی سینکڑوں شدت پسند مارے جا چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنڈرون حملوں میں نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان اور یمن میں بھی سینکڑوں شدت پسند مارے جا چکے ہیں

امریکہ میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے صدر براک اوباما کے مشیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں شدت پسندوں کے نیٹ ورک کے خلاف جنگ جیتنے میں مدد مل رہی ہے۔

امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ برس ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے مکان سے جو دستاویزات ملی تھیں انھیں اس ہفتے کے آخر میں آن لائن کر دیا جائے گا۔

امریکی صدر کے مشیر نے کہا ’ڈرون حملے قانونی ہیں، ان کا اخلاقی جواز ہے اور یہ ضروری اور متناسب ہیں۔ ڈرون حملے انتہائی احتیاط اور غورو فکر کے بعد کیے جاتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب ہدف کوئی امریکی شہری ہو۔‘

صدر اوباما کے مشیر جان برینن نے یہ بات واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک سے خطاب میں کہی۔

ان کے اس خطاب کو پاکستان میں ڈرون حملوں سے القاعدہ کے اراکین کو ہلاک کرنے کی پہلی مفصل امریکی توجیہہ قرار دیا گیا ہے۔

امریکی صدر کے مشیر نے کہا کہ ڈرون حملے عموماً میزبان ملک کے تعاون سے کیے جاتے ہیں یہ ’پوری طرح قانون کے مطابق ہوتے ہیں۔‘

خیال ہے کہ ڈرون حملوں میں نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان اور یمن میں بھی سینکڑوں شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

تاہم جان برینن نے یہ تسلیم کیا کہ کچھ ڈرون حملوں میں عام لوگوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

امریکی کمانڈوز نے گزشتہ برس دو مئی کو پاکستان کے شہرایبٹ آباد میں ایک آپریشن میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا۔ جان برینن کا بیان اس کارروائی کے ایک برس مکمل ہونے پر آیا ہے۔

امریکی صدر کے مشیر کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان میں القاعدہ کے اراکین کے خلاف کارروائی کے بارے میں صدر اوباما مزید کھل کر بات کرنا چاہتے ہیں۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار پال ایڈمز کا کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ امریکہ نے پاکستان میں ڈرون حملوں کی تصدیق کی ہو۔

بی بی سی کے شمالی امریکہ کے ایڈیٹر مارک مارڈیل نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ یہ حیرانی کی بات نہیں کہ امریکی صدر القاعدہ کے سربراہ اسامہ کی موت کو ایک علامت کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی انتظامیہ کی پہلی کامیابی نہیں لیکن یہ وہ کامیابی ہے جس کی اہمیت سیاست یا سیاسی جماعتوں کی وجہ سے کم نہیں ہوئی۔

جنوری میں صدر اوباما نے ایک ویب کاسٹ کے ذریعے پاکستان میں شدت پسندی کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے ڈرون حملوں کی بات کی تھی۔ تاہم بی بی سی کے نامہ نگار پال ایڈمز کا کہنا ہےکہ جان برینن نے ایک قدم آگے بڑھ کر اس امریکی پالیسی کا عقلی جواز پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو اب تک متنازع ہے۔

پاکستان میں ایک عرصے سے ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہv

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں ایک عرصے سے ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں

جان برینن کا کہنا تھا کہ جب سے امریکہ نے القاعدہ کے خلاف جنگ شروع کی ہے، ایک ایسی دنیا کا تصور کیا جا سکتا ہے جس میں مرکزی طور پر القاعدہ کی کوئی اہمیت و حیثیت نہیں۔

جان برینن نے کہا کہ گزشتہ برس ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے مکان سے جو دستاویزات ملی تھیں انھیں اس ہفتے کے آخر میں آن لائن کر دیا جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ ان دستاویزات میں اسامہ کے اپنے ساتھیوں سے رابطوں کا تذکرہ ہے اور ان کا ہاتھ سے لکھی ہوئی ڈائری ہے۔

ان کاغذات کے مطابق اسامہ نے اپنی تنظیم کا نام تبدیل کرنے پر غور کیا تھا کیونکہ اس تنظیم کے کئی سینیئر رہنما مارے جا چکے تھے۔

اے ایف پی کے مطابق جان برینن کے بقول دستاویزات میں اسامہ نے اعتراف کیا کہ القاعدہ کو ایک کے بعد دوسری آفت کا سامنا ہے۔