لیاری میں آپریشن، پولیس اہلکار ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کراچی کے علاقے لیاری میں پولیس نے کچھ روز کے وقفے کے بعد جمعہ کی صبح سے دوبارہ آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے اور اس دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس کانسٹیبل ہلاک ہوگیا ہے۔
اس آپریشن کی نگرانی ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کر رہے اور پولیس کی مدد کے لیے ایف سی اہلکار بھی موجود ہیں، جنہوں نے اونچی عمارتوں پر پوزیشن سنھالی ہوئی ہے۔
چیل چوک اور آس پاس کا علاقہ آپریشن کا مرکز ہے جہاں کاروبار زندگی معطل اور لوگ گھروں میں محصور ہیں۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق آپریشن کے آغاز کے بعد علاقے میں صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے اور نہ صرف گلیوں سے پولیس پر فائرنگ کی جا رہی ہے بلکہ ان پر دستی بم بھی پھینکے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق مسلح افراد سے فائرنگ کے تبادلے کے دوران پولیس کانسٹیبل عبدالحمید ہلاک اور دس کے قریب افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس سرجن کے مطابق زخمیوں کو سول ہپستال لایا گیا ہے۔
پولیس نے اس آپریشن کے دوران چار افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔
خیال رہے کہ جمعرات کو لیاری کے علاقے آٹھ چوک پر نامعلوم افراد کی فائرنگ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ملک محمد خان ہلاک ہوگئے تھے ، وہ لیاری ٹاؤن کے نائب ناظم بھی رہ چکے ہیں۔
لیاری سے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے مطالبہ کیا ہے کہ لیاری میں فوج کو طلب کیا جائے اور کرفیو کا نفاذ کرکے ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملک محمد خان کی ہلاکت کے بعد نبیل گبول نے اعلان کیا کہ وہ خود لیاری میں بیٹھ کے صورتحال کی نگرانی کریں گے ، اگر انہیں گولی لگتی ہے تو وہ کھانے کے لیے تیار ہیں، اس فیصلے سے انہوں نے صدر زرداری کو بھی آگاہ کردیا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے پچھلے دنوں کراچی میں لیاری میں امن کے قیام کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کی تھی، جس میں انتخابات سے قبل لیاری کو جرائم پیشہ افراد سے کلیئر کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ لیاری کو پاکستان پیپلز پارٹی سے چھین سکیں گے یہ ان کی بھول ہے۔ یاد رہے کہ حکمران پیپلز پارٹی نے لیاری کو نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا حلقہ قرار دیا ہے۔







