حافظ سعید پر انعام، ملک گیر احتجاج کا اعلان

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
دفاع پاکستان کونسل نے امریکہ کی طرف سے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی گرفتاری یا گرفتاری میں مدد کےلیے رکھے گئے انعام کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس کے خلاف جمعہ کے روز ملک بھر میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اس موضوع پر بحث کی بجائے عدالتی کارروائی کے لیے حافظ سعید کے خلاف ٹھوس ثبوت چاہتا ہے۔
اس موقع پر حافظ سعید نے بتایا کہ نہ امریکہ کی کسی عدالت نے ان کے خلاف فیصلہ دیا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف امریکہ میں کوئی مقدمہ درج ہے تو امریکہ کس قانون کے تحت ان کی گرفتاری پر انعام رکھا ہے۔
دفاع پاکستان کونسل نے حکومتِ پاکستان سے حافظ سعید کو تحفظ فراہم کرنے اور صدر آصف علی زرداری سے دورۂ بھارت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دفاع پاکستان کونسل نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید پر امریکی انعام کے خلاف راولپنڈی میں ہنگامی پریس کانفرنس کی جس میں مولانا سمیع الحق، حافظ محمد سعید، لیاقت بلوچ، شیخ رشید اور مولانا فضل الرحمان خلیل سمیت دیگر رہنماؤں سے شرکت کی۔
دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اس کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔
یاد رہے کہ دو دن پہلے امریکہ نے کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے بانی اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی تلاش میں مدد دینے پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کر دیا تھا۔ ان پر دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملوں سمیت دہشتگردی کی کئی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ سعید نے کہا کہ امریکہ کے اس فیصلے پر انہیں حیرانگی ہوئی کہ امریکہ کو ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں صحافیوں کو اپنے پورے پروگرام کے بارے میں بھی بتایا۔ انہوں نے امریکہ سے پوچھا کہ کس قانون کے تحت ان کی گرفتاری پر انعام رکھا گیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’نہ تو حکومت نے مجھ سے کوئی رابطہ کیا ہے اور نہ میں نے خود حکومت سے رابطہ کیا ہے لیکن حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے امریکہ سے بات کرے۔‘
ان کے مطابق اگر امریکہ انہیں یہ انعام دیتا ہے تو پوری رقم بلوچستان کی ترقی پر خرچ کریں گے۔ انہوں بھارت پر تنقید کرنے کا موقعہ بھی نہیں گنوایا۔
امریکی انعام کے اعلان کے باوجود بھی حافظ سعید کی پاکستان میں جاری سرگرمیوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے اور وہ آزادی سے پورے ملک میں گھوم رہے ہیں۔







