سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں، سر قلم

جنوبی اور شمالی وزیرستان میں سرکاری عملداری محدود نوعیت کی ہی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنوبی اور شمالی وزیرستان میں سرکاری عملداری محدود نوعیت کی ہی ہے

بلوچستان کے علاقےشیرانی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے سیکورٹی فورسز کے چار اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں جبکہ پانچ ابھی تک لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کی صبح خیبرپختونخوا سے ملحقہ بلوچستان کے ضلع شیرانی میں سرحدی مقام میرعلی خیل کے چیک پوسٹ پرنامعلوم مسلح افراد نےخود کارہتھیاروں سے حملہ کیا جس میں تین سکیورٹی اہلکار موقع پر ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے۔زخمیوں کو فوری طور پر ایف سی ہسپتال ژوب منتقل کردیاگیا جہاں ایک اوراہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

ژوب سے مقامی صحافیوں کے مطابق فائرنگ کے بعد نامعلوم افراد نے پانچ سکیورٹی اہلکاروں کو بھی اغواء کیاہے جن کی بازیابی کے لیے سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

شیرانی کی مقامی انتظامیہ کے مطابق واقعہ میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں بھی ژوب منتقل کی جارہی ہیں جہاں سے انہیں اپنے آبائی علاقوں خیبرپختونخوا اوردیگرقبائلی علاقوں کے لیے روانہ کردیا جائے گا۔

یاد رہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو ملانے والی اس سرحدی چیک پوسٹ پر چند ماہ قبل بھی حملہ ہواتھاجس کے نتیجے میں دواہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

بعد میں طالبان نے اسکی ذمہ داری قبول کی تھی۔لیکن آخری اطلاع تک آج کے حملے کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ دو سکیورٹی اہلکاروں کے تن سے قلم کئے ہوئے سر ملے ہیں جبکہ ایک اور واقعہ میں سکیورٹی اہلکار ریڈیو سیٹ میں نصب بم پھٹنے سے ہلاک ہوگئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے ایک پولیٹکل اہلکار نے تصدیق کی کہ سکیورٹی اہلکاروں کے تن سے جدا ہوئے سر صدر مقام وانا کے قریب ایک نالے سے ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوری طورپر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان سکیورٹی اہلکاروں کو کس نے قتل کیا ہے اور اس کے جسم کے دھڑ اور دیگر اعضاء کہاں ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دونوں سرقبضہ میں لے کر شناخت کےلیے رکھ دیئے گئے ہیں۔

ادھر اس واقعہ سے قبل کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک کمانڈر حاجی حسین احمد نے وزیرستان سے ملحقہ بلوچستان کے شہر ژوب میں سکیورٹی فورسز کے ایک قلعے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ انہوں نے اس حملے میں آٹھ سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک اور چار کو یرغمال بنانے کا دعوٰی کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مرنے والے اہلکاروں کی لاشیں وہ اپنے ساتھ لائے ہیں اور ان کے سرقلم کرک علاقے میں پھینک دی گئی ہیں۔

کمانڈر نے مزید دعویٰ کیا کہ تقریباً ایک ماہ قبل ژوب کے علاقے برسورہ میں ان کے پانچ ساتھی سکیورٹی فورسز کے ایک کارروائی کے دوران مارے گئے تھے اور آج کا حملہ اس واقعہ کا بدلہ تھا۔

ادھر دوسری طرف نجی ٹیلی وی چینلز کی طرف سے بھی تصدیق کی گئی ہے کہ ژوب میں سکیورٹی فورسز کے قلعے پر حملہ کیا گیا ہے جس میں کم سے کم تین اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

دریں اثناء جنوبی وزیرستان میں ہی ریڈیو سیٹ میں نصب بم پھٹنے سے فوج کے ایک حوالدار ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق وانا سکاؤٹس کے ایک حولدار محمد حسین کو کسی نامعلوم شخص نے ایک ریڈیو سیٹ دیا اور جب وہ گھر پہنچا اور ریڈیو سیٹ آن کیا تو اس دوران زوردار دھماکہ ہوا جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کی تفتیش کی جارہی ہے کہ اہلکار کو ریڈیو سیٹ کس نے دیا تھا۔