سائٹ بلاک کرنے کا نظام، تحفظات کا اظہار

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان کی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے ویب سائٹس کو بلاک کرنے کے نظام کے حصول کے طریقہ کار پر انسانی حقوق کی تنظیم نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ وزارت کی جانب سے انٹرنیٹ پر ویب سائٹس کو بلاک کرنے والے نظام کے لیے دیے گئے ٹینڈر کی آج آخری تاریخ تھی۔
پاکستان کی ہیومن رائٹس کمیشن یعنی ایچ آر سی پی نے وزارت کی جانب سے نظام حاصل کرنے کی تادیبی نظام پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اس نظام کے تحت حکومت کو یہ اختیارات مل جائیں گے کہ وہ اپنی ناپسندیدہ پانچ کروڑ تک ویب سائٹس کو بلاک کر سکے گی۔
وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے غیر ملکی کمپنیوں سے جو ٹینڈر طلب کیا گیا ہے اس کی مالیت ایک کروڑ ڈالر ہے۔
لاہور میں ہماری نامہ نگار منا رانا نے بتایا کہ پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے حکومت کے اس اختیار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کرنا آزادی اظہار پر پابندی لگانے کے مترادف ہو گا۔
کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق یہ فیصلہ کرنے سے پہلے حکومت نے کسی بھی آزادانہ گروہ سے مشاورت نہیں کی اور نہ ہی کسی کو یہ معلوم ہے کہ اس نظام کو کس طرح لاگو کیا جائے گا۔
’کوئی ایسا طریقہ کار بھی موجود نہیں جس سے یہ جائزہ لیا جا سکے کہ حکومت جن ویب سائٹس کو روکے گی وہ آزادی اظہار کے زمرے میں آتی ہیں یا نہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایچ آر سی پی کے ترجمان نجم الدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایسا نظام قائم کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے کسی بھی آزاد گروہ، ذرائع ابلاغ کے ادارے اور آزادی اظہار کے لیے کام کرنے والی کسی تنظیم سے مشاورت نہیں کی۔
’انٹرنیٹ ویب سائٹس روکنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد حکومت اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہے اور ان خیالات کو روک سکتی ہے جو سیاسی طور پر اس کے خلاف ہو سکتے۔‘
آزادنہ اظہار خیال کے علمبردار اور تجزیہ نگار امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ دراصل حکومت کے اس عمل کے درپردہ کوئی اور عناصر ہیں جو آزادی اظہار نہیں چاہتے اور جمہوریت کیونکہ موجودہ حکومت نے آزادیء اظہار پر پابندی عائد نہیں کی۔ امتیاز عالم نے کہا کہ اگر انٹرنیٹ پر اظہار خیال پر پابندی عائد کی گئی تو وہ اس کے خلاف لڑیں گے۔
انٹرنیٹ ویب سائٹس کو روکنے کی وجہ تو یہ بتائی جاتی ہے کہ انٹرنیٹ پر دستیاب غیر اخلاقی اور فحش مواد تک رسائی کو ناممکن بنایا جا سکے۔ انٹرنیٹ پر ایسا کنٹرول دیگر ممالک میں بھی ہے جن میں سعودی عرب اور چین شامل ہیں۔







