ووٹ کی تصدیق، ایس ایم ایس سروس کا آغاز

ساڑھے آٹھ کروڑ ووٹرز کو یہ سہولت میسر کی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنساڑھے آٹھ کروڑ ووٹرز کو یہ سہولت میسر کی گئی ہے

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بدھ سے تمام اہل ووٹرز کو بذریعہ ’ایس ایم ایس‘ ووٹ کی تصدیق کرنے کی سہولت مہیا کر دی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اہل ووٹر اپنے موبائل فون کے ذریعے 8300 پر اپنا شناختی کارڈ نمبر بھیج کر اپنے ووٹ کی تصدیق کر سکتا ہے۔

’ایس ایم ایس‘ بھیجتے ہی متعلقہ فرد کو اپنے موبائل فون پر ایک پیغام موصول ہوگا جس میں اس کے انتخابی علاقے کا نام اور بلاک کوڈ فراہم کیا جائےگا۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان الطاف احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ایس ایم ایس سروس کے افتتاح کے دس منٹ کے اندر ہی پچاس ہزار لوگوں نے اپنے ووٹوں کی تصدیق کی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق یہ دنیا میں ایس ایم ایس کے ذریعے ووٹ کی تصدیق کی سب سے بڑی سروس ہے۔ ترجمان کے مطابق ‘ایس ایم ایس’ کے ذریعے ووٹ کی تصدیق کا تجربہ پہلے ملائیشیا میں کیا گیا لیکن وہ محدود سطح پر تھا اور یہ پہلا موقع ہے کہ ساڑھے آٹھ کروڑ ووٹرز کو یہ سہولت میسر کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بیس مئی تک ووٹر لسٹ کے بارے میں اعتراضات وصول کیے جائیں گے اور بعد میں نادرا سے دوبارہ چیک کرنے کے بعد حتمی ووٹر لسٹ مئی میں جاری کردی جائے گی جو غلطیوں سے پاک ہوگی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اگر کسی ووٹر کو اپنا انتخابی علاقہ تبدیل کرانا ہو یا اس کا نام درج نہ ہو وہ متعقلہ ضلعی رجسٹریشن افسر کے دفتر سے رابطہ کر کے اپنا ووٹ درج کرا سکتا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ ماضی میں غیر مصدقہ ووٹر فہرستیں الیکشن میں دھاندلی کی بڑی وجہ بنتی تھی اور پاکستان میں پہلی بار کمپیوٹرائزڈ ووٹر فہرستیں تیار کی گئی ہیں جس میں ووٹر کے شناختی کارڈ نمبر اور تصویر بھی ہوگی۔

نئی تیار کردہ ووٹر فہرست میں ساڑھے آٹھ کروڑ ووٹرز کے نام درج ہیں۔ پاکستان میں ماضی میں بھی کمپیوٹرائزڈ ووٹر فہرستیں تیار کرنے کا دعویٰ کیا گیا لیکن جب ان کا نادرا کے پاس دستیاب ریکارڈ سے ان کا موازنہ کیا گیا تو ستر لاکھ کے قریب ووٹرز ایسے تھے جن کا نادرا کے پاس ریکارڈ ہی نہیں تھا۔

موجودہ فہرست جو گھر گھر جا کر الیکشن کمیشن نے تیار کی اور اُسے نادرا کے ریکارڈ سے موازنہ کرنے کے بعد جاری کیا گیا ہے اس میں چھتیس لاکھ کے قریب ایسے ووٹر ہیں جن کے نام اس پرانی ووٹر لسٹ، جس پر سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات منعقد ہوئے تھے، شامل نہیں تھے۔