ہزاروں طالب علم تدریسی عمل سے محروم

مظاہرین

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسندھ یونیورسٹی کے اساتذہ نے وائس چانسلر کی برطرفی کے لیے ایک احتجاج شروع کیا تھا

پاکستان کے صوبہ سندھ کی اکثر جامعات گزشتہ کئی روز سے بند ہیں جس کے باعث ہزاروں طالب علم تدریسی عمل سے محروم ہوگئے ہیں۔

سندھ یونیورسٹی کے اساتذہ نے وائس چانسلر کی برطرفی کے لیے ایک احتجاج شروع کیا تھا جو صوبے بھر کی جامعات تک پھیل گیا ہے۔

پچیس ہزار سے زائد طالب علموں کی درس گاہ سندھ یونیورسٹی میں اس وقت صورتحال غیر معمولی ہوئی جب دو جنوری کو پروفیسر بشیر چنڑ کو نامعلوم مسلحہ افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ تاہم اس ہلاکت کے ردِ عمل میں دوسرے روز ہی اساتذہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کردیا اور یوں پچاس روز کے بعد بھی کلاسوں کے دروازے کھل نہیں سکے۔

شروع میں ان اساتذہ کا مطالبہ تھا کہ بشیر چنڑ کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے لیکن بعد میں ان مطالبات میں اضافہ ہوگیا۔ جن میں وائس چانسلر کی برطرفی، سٹوڈنٹس یونین کی بحالی اور جامعات سے رینجرز کو نکالنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔

طالب علم، اساتذہ اور حکومت دونوں کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ عائشہ جمالی نامی سٹوڈنٹ کا کہنا ہے کہ جب حکومت دیکھ رہی ہے کہ اس انتظامیہ سے اساتذہ مطمئن نہیں ہیں اور اگر پھر بھی اس انتظامیہ کو زبردستی مسلط کیا جائے تو ظاہر ہے کہ اساتذہ فطری طور پر اٹھ کھڑے ہوں گے۔

’اساتذہ بھی صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ جب وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے مطالبات تسلیم نہیں ہو رہے تو وہ کم از کم تدریسی عمل تو شروع کریں۔ طالب علموں نے کیا قصور کیا ہے۔‘

ہبا ممتاز نامی سٹوڈنٹ کا کہنا ہے کہ ٹیچر احتجاج بھی کر رہے ہیں اور تنخواہ بھی پوری لے رہے ہیں اور اس پوری صورتحال میں نقصان صرف طالب علموں کا ہورہا ہے۔

اس احتجاج کے دوران اساتذہ کو گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے طلب کر کے مذاکرات کیے اور وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر مغل کو ہٹانے کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد اساتذہ نے تدریسی عمل بحال کرنے کا اعلان کیا مگر اجلاس کے فیصلے کے برعکس ان مذاکرات میں شریک تین اساتذہ رہنماؤں کو معطل کر دیا گیا جس کے بعد یہ احتجاج صوبے بھر کی جامعات تک پھیل گیا۔ اس وقت سندھ، مہران، لیاقت میڈیکل، قائد عوام اور شاہ عبدالطیف یونیورسٹی میں کلاسوں کا بائیکاٹ جاری ہے۔

سندھ یونیورسٹی کے اساتذہ کی تنظیم کی سیکریٹری جنرل عرفانہ ملاح کا کہنا تھا کہ سندھ یونیورسٹی کی لیبارٹریوں میں کیملیکلز نہیں، لائبریروں میں کتابیں نہیں اور ایک رٹائرڈ شخص کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کر کے وائس چانسلر لگایا گیا ہے۔

سندھ یونیورسٹی کے رجسٹرار اختر میمن ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اساتذہ کی تنظیمیں الزامات کے ایک سلسلے کے بعد دوسرا سلسلہ شروع کر دیتی ہیں۔ بقول ان کے جامعہ میں ایک مرکزی لائبریری ہے اس کے علاوہ ہر شبعے میں ایک لائبریری ہے، ایک سائنٹیفک سٹور ہے جس کا سالانہ بجٹ ہے۔ ان تمام کی نگرانی سینیئر اساتذہ ہی کرتے ہیں۔

انہوں نے نذیر مغل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جتنی بھی جامعات ہیں ان کا کوئی بھی سربراہ ریگولر ملازم نہیں ہے۔ اسی طرح سندھ کی بارہ جامعات میں بھی رٹائرڈ افراد وائس چانسلر ہیں پھر اساتذہ صرف نذیر مغل پر ہی کیوں برہم ہیں۔

اساتذہ کی تنظیم کی سیکریٹری جنرل عرفانہ ملاح کا کہنا ہے کہ ان کے کئی اساتذہ بیرون ملک سے تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کے پاس ایک ویژن ہے وہ چاہتے ہیں کہ یونیورسٹیاں مافیہ کی طرح کام نہ کریں۔ طالب علموں کو اساتذہ پڑھاتے ہیں یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ اس سے پہلے سیلاب کے دنوں میں جب جامعات بند تھیں تو اساتذہ نے ہی اس وقت کا ازالہ کیا تھا اب بھی کریں گے۔

حکمران پیپلز پارٹی وائس چانسلر نذیر مغل کی حمایت کر رہی ہے جبکہ اکثر قوم پرست جماعتیں اساتذہ کی حامی ہیں۔

فیڈریشن آف آل پاکستان ایکیڈمک سٹاف نے بھی سندھ کی جامعات کے احتجاج کی حمایت کی ہے اور اٹھائیس فروری کو ملک بھر کی جامعات میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ سیلاب اور بارش کے بعد ہزاروں گھرانے اب ان نئی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جس میں حکومت اور اساتذہ میں کوئی بھی ایک قدم پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔