بلوچستان: دو مسخ شدہ لاشیں برآمد

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں مقامی لیویز کو دو افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں جن کی شناخت جمعہ کی رات گئے تک نہیں ہو سکی ہے۔
بلوچستان کے علاقے دالبندین میں جمعہ کی شام مقامی لیویز کو آمین آباد اور یک مچ کے مقامات سے دومسخ شدہ لاشیں ملی ہیں جنہیں فوری طور پرشناخت کے لیے سول ہپستال دالبندین پہنچا دیاگیا۔
نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق دونوں لاشوں کی جمعہ کی رات گئے تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
دالبندین سے مقامی صحافی علی دوست کے مطابق لاشیں انتہائی پرانی ہیں۔ دونوں افراد کو سر اور سینے میں گولیاں ما کر ہلاک کیاگیا ہے جس کے باعث ان کی شناخت میں مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے اپنے رشتہ داروں کو منظرعام پر لانے کے لیے کراچی پریس کلب کے سامنے علامتی بھوک ہڑتال جاری ہے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق سابق صدرجنرل پرویزمشرف کے دور حکومت میں بلوچستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کے دوران چودہ ہزار افراد لاپتہ ہو چکے ہیں جن میں سے اب تک تین سو ساٹھ سے زیادہ کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔
یاد رہے کہ حکومت اور سپریم کورٹ نے بلوچستان میں لاپتہ افراد کو منظرعام پر لانے کے لیے دو کمیشن بھی قائم کیے ہیں۔لیکن لاپتہ افراد کے لواحقین کا کہنا ہے کہ کمیشن قائم ہونے کے بعد لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔



