گڑھی: مجمع بڑا مگر منتشر

قبریں بھی لوگوں کے روزگار کا وسیلہ بنی ہوئی ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنقبریں بھی لوگوں کے روزگار کا وسیلہ بنی ہوئی ہیں
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاڑکانہ

کہیں خوشی اور کہیں غم کچھ ایسے ہی مناظر سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی برسی کے موقعے پر نظر آئے۔ یہ سیاسی اجتماع تھا مگر منظر کسی صوفی میلے کا سا لگتا تھا۔ ایک کونے پر ریکارڈنگ پر کارکن رقص کر رہے تھے تو دوسرے کونے پر کچھ آنکھیں نم تھیں۔

لاڑکانہ میں سردی اور دھند کے باوجود لوگ صبح سویرے گڑھی خدا بخش پہنچنا شروع ہوگئے، وہ سیدھا مزار پر جاتے اور دوسرے دروازے سے باہر نکل جاتے تھے۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ گزشتہ چار سالوں سے ایسا ہی کرتے آئے تھے، مگر اس بار انہیں جلسے کے لیے رکنا پڑا۔

لوگوں کی تعداد کے اعتبار سے تو یہ مجمع بڑا تھا مگر زیادہ منتشر نظر آیا۔ مزار کی چار دیواری میں لوگ گروہوں میں بٹے ہوئے تھے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے انہیں تقاریر سے کوئی دلچسپی نہیں۔

کارکنوں کی طرح پیپلز پارٹی کے رہنما بھی ٹولیوں کی صورت میں پنڈال میں داخل ہوئے اور انہیں کارکنوں کے درمیان میں سے گذر کر سٹیج تک پہنچنا پڑا۔

صدر آصف علی زرداری جب تقریر کر رہے تھے تو اس وقت اعتزاز احسن پہنچے، زرداری نے اپنی تقریر روک کر انہیں تقریر کرنے کو کہا۔ اعتزاز احسن نے کارکنوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ فیصل آباد کے جلسے کی طرح ہرگز نہیں کریں گے۔ جس سے خطاب کرنے کے فوری بعد جاوید ہاشمی تحریک انصاف میں شامل ہوگئے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میڈیا پر تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے۔ کارکنوں کی باتوں سے بھی اس کا عکس نظر آتا تھا۔ صدر زرداری نے اپنی تقریر میں وزراء اور پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی کہ ٹی وی چینلز کے مباحثوں میں جاکر اپنی بے عزتی نہ کرائیں۔

صدر کے ساتھ سٹیج پر کالم نویس اور صحافی منو بھائی، مجیب الرحمان شامی، عارف نظامی بھی موجود تھے۔ انہوں نے پارٹی کے منشور کی کاپی منو بھائی کے حوالے کی اور کہا کہ وہ اس کا تجزیہ کریں۔

پارٹی قیادت نے اعلان کیا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی شرکاء سے خطاب کریں گے۔ مگر وہ نامعلوم وجوہات کے باعث نہیں پہنچ سکے۔ جبکہ جلسے کے مقررین بلاول بھٹو سے وفا کا عہد کرتے رہے اس دوران بعض لوگوں نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے فرزند کی بھی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں۔

پیپلزپارٹی کے باغی اور ناراض رہنما صفدر عباسی، ناہید عباسی، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا جلسے میں نظر نہیں آئے۔

اسٹیٹ بینک کی پچھلے دنوں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں لاڑکانہ کو ملک کا سب سے مہنگا شہر قرار دیا گیا تھا جہاں سال میں چار برسیوں کی تقریبات ہوتی ہیں، شہر میں ان دنوں ہوٹلوں میں جگہ نہیں ملتی اور شہر میں ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔

بھٹو خاندان نے حکمرانی کے دنوں میں لاڑکانہ شہر اور یہاں کے لوگوں کو نوازہ اب ان کی قبریں بھی لوگوں کے روزگار کا وسیلہ بنی ہوئی ہیں۔