محرم، پاکستان میں سخت سکیورٹی انتظامات

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان میں نویں محرم اور یوم عاشور پر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور اس ضمن میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں کرفیو نافذ ہے۔
دریں اثناء صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر کوہاٹ میں اعزاداری جلوس کے راستے پر ہونے والے ایک راکٹ حملے میں پولیس اہلکار سمیت دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں تاہم یہ حملہ ماتمی جلوس کے نکلنے سے چند گھنٹے قبل پیش آیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی شام کوہاٹ میں اس وقت پیش آیا جب نیم خودمختار قبائلی درہ آدم خیل کے پہاڑوں سے شہر پر دو راکٹ داغے گئے۔اس واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے اکثر چھوٹے، بڑے شہروں میں محرم الحرام کے موقع پر سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں کرفیو نافذ ہے اور موبائل فون سروس کو معطل کر دیاگیا ہے۔
حکومت نے پورے صوبے میں محرم الحرام کے موقع پر ’ہائی الرٹ سکیورٹی‘ کے انتظامات کیے ہیں۔
اس سلسلے میں پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجرز کو تعینات کیا گیا جبکہ فوج کو چوکس رکھا گیا۔
اطلاعات کے مطابق پشاور، کوہاٹ، ہنگو اورڈیرہ اسماعیل خان میں فوجی اور ایف سی کے دستے بھی گشت کرتے نظر آئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر شہروں میں خواتین پولیس اہلکار بھی تعینات کی گئیں۔ اور مجالس اور ماتمی جلوسوں میں شرکت کے لیے آنے والوں کی جامہ تلاشی لی جا رہی ہے تاہم ان انتظامات کی وجہ ماتمی جلوس متاثر نہیں ہو رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ حساس ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پیر کی صُبح سے کرفیو نافذ ہے۔اور اتوارکی رات سے موبائل سروس کو بھی معطل کر دیاگیا ہے۔
حکام کے مطابق صرف عزاداروں کوگھروں سے باہر جانے کی اجازت ہے۔جبکہ ضلع ہنگو میں غیر اعلانیہ کرفیو کا سماں ہے لیکن ابھی تک کسی بھی علاقے سے کوئی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
کراچی کی صورتحال

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ماتمی جلوسوں کی گذر گاہ ایم اے جناح روڈ، ایمپریس مارکیٹ، ریگل چوک اور پریڈی سٹریٹ گزشتہ دو روز سے سیل ہے، اور وہاں کے مکینوں تک کو نقل و حرکت کی اجازت نہیں، تمام گلیوں کو کنٹینرز کی مدد سے بند کردیا گیا ہے جبکہ گذر گاہ پر پولیس اور رینجرز کے تقریباً چھ ہزار اہلکار تعینات ہیں۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ماتمی جلوسوں کی سکیورٹی کے تین حصار بنائے گئے ہیں جن میں پہلا حصار سکاؤٹس کا ہے جس کے بعد ترتیب وار رینجرز اور پولیس اہلکار ہیں۔ جلوسں کی گذر گاہ کی اونچی عمارتوں پر بھی پولیس اور رینجرز کے نشانہ باز تعینات کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ دو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے وقفے وقفے سے فضائی نگرانی کی گئی۔
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کراچی میں کسی تخریب کاری کے امکان کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ سائیکل سے لیکر ہر گاڑی کی تلاشی لی جائے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے میں پولیس نے آٹھ مبینہ تخریب کاروں کو گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ محرم میں تخریب کاری کا ارادہ رکھتے تھے۔
دوسری جانب پیر کو نویں محرم الحرام کے جلوس کے شرکا نے ایم اے جناح روڈ پر امریکہ اور نیٹو کی بمباری کے خلاف احتجاج کیا، اس موقعے پر امریکہ اور اسرائیل کے جھنڈے بھی نذر آتش کیے گئے۔
اس کے علاوہ صوبہ سندھ کے دیگر شہروں میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
صوبہ پنجاب میں سکیورٹی کی صورتحال

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
صوبہ پنجاب میں یوم عاشوہ کے موقع پر لاہور میں غیر معمولی نوعیت کے حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ صرف لاہور شہر میں بارہ ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کو ماتمی جلوس کی نگرانی کے لیے تعینات کیا گیا۔
لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق نویں محرم کا مرکزی جلوس لاہور کے علاقے کرشن نگر سے آبرمد ہوا اور جلوس کے راسے کو عام ٹریفک کے بند کردیا گیا۔
ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور میں ماتمی جلوس کی فضائی نگرانی کی گئی جبکہ جلوس میں شامل ہونے ے لیے مخصوص مقامات مقرر کیے گئے تھے جہاں پر جامع تلاشی کے بعد پولیس عزاداروں کو جلوس میں شامل ہونے کی اجازت دی۔
جلوس میں شرکت کرنے والی خواتین کی تلاش لینے کے بعد انہیں جلوس میں جانے کی اجازت دی تھی۔جلوس میں شامل عزاداروں نے راستے میں مختلف مقامات پر رک کر ماتم بھی کیا۔
اسلام آباد
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں نویں محرم کے موقع پر اعزاداری جلوس نکالے گئے۔
اسلام آباد میں نویں محرم کے مرکزی جلوس کے راستے پر ایک ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جب کہ نیم فوجی دستے رینجرز کو الرٹ رہنے کو کہا گیا تھا۔
جلوس کی فوج کے ہیلی کاپٹر سے بھی نگرانی کی گئی جب کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی جلوس کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔
راولپنڈی میں بھی محرم کے ماتمی جلوسوں کی نگرانی کے لیے پندرہ سو کے قریب پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
بلوچستان
صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں سکیورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
کوئٹہ سے نامہ نگار ایوب ترین کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس منگل کی صبح علمدار روڑ سے برآمد ہو گا۔
جلوس کے راستے پر واقعے تمام دکانوں کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ جلوس کے راستے سے محلقہ سڑکوں کو بھی بند کر دیا جائے گا اور جلوس کی نگرانی کے لیے بتیس سی سی ٹی وی کمیرے نصب کیے گئے ہیں۔
امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی پانچ ہزار نفری کے علاوہ ایف سی کے ستائیس پلاٹونز اور لیویز کے پانچ سو اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوج کو بھی چوکس کر دیا گیا ہے۔







