شیری رحمان جو نظر آتی ہیں وہی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, عامر احمد خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

میری سابق ایڈیٹر شیری رحمان امریکہ میں پاکستان کی نئی سفیر ہوں گی۔ مجھے یہ سن کر اتنی ہی مسرت ہوئی جتنی کچھ برس پہلے ان کے وزیر اطلاعات بننے کا سن کر ہوئی تھی۔ شاید کچھ زیادہ کیونکہ ان کی تقرری سے قبل بہت افواہ تھی کہ شاید یہ عہدہ فوجی قیادت کے نامزد شخص کو دے دیا جائے۔

یقیناً آنے والے دنوں میں ان کی تقرری اور ان کو درپیش مسائل کے بارے میں بہت کچھ لکھا جائے گا۔ اس پر بھی رائے کا اظہار کیا جائےگا کہ ایک انتہائی مشکل لمحے میں ان کی تقرری کے ذریعے کس مہارت سے سیاسی حکومت نے اپنے انتظامی استحقاق کا دفاع کیا ہے۔

لیکن میرا دماغ ان گتھیوں میں الجھا ہوا ہے جنہیں اب تک حسین حقانی انتہائی مہارت سے سلجھا رہے تھے اور اب یہ ذمہ داری شیری رحمان کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ اور کیونکہ سفارتکاری کی کامیابی کا دارومدار بڑی حد تک شخصیت پر ہوتا ہے اس لیے میں یہ خبر سنتے ہی اس سوچ میں پڑ گیا کہ کیا شیری رحمان کی شخصیت سازشوں کے اس جال سے نمٹ پائے گی جو تین سال سے حسین حقانی کے گرد مسلسل گھیرا تنگ کرتا رہا اور ان کی تمام تر مہارت کے باوجود آخرکار ان کا عہدہ لے ہی جھپٹا۔

آج سے کئی برس پہلے جب حسین حقانی نے بینظیر بھٹو سے مشاورت کے بعد (یا ان کے ناقدین کے مطابق مشرف حکومت کی سرد مہری سے بددل ہو کر) واشنگٹن جانے کا فیصلہ کیا تو میرے دل میں ذرا بھی شک نہیں تھا کہ ان کو اپنے اس فیصلے سے جو بھی مطلوب ہے وہ اسے با آسانی حاصل کر لیں گے۔

ان دنوں فرح ناز اصفہانی ہیرالڈ رسالے میں ہماری ادارتی معاون تھیں اور حسین انہیں مس اصفہانی سے بیگم حقانی میں بدلنے کی سعی میں اکثر ہمارے دفتر آیا کرتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ فرح ناز کی ادارتی مصروفیات کے باعث حسین کی میزبانی کے فرائض مجھے یا میرے دیگر ساتھیوں کو انجام دینے پڑتے۔

ایسی ہی ایک ملاقات میں انہوں نے کہا کہ حسین حقانی اور پاکستانی لبرل کلاس میں فرق یہ ہے کہ جب تک ہماری لبرل کلاس صبح نیند سے اٹھتی ہے، حسین حقانی اپنا سارا کام ختم کر کے کل کی سوچ رہا ہوتا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ سیاست میں حسین حقانی سے زیادہ محنتی شخص شاید ہی آپ کو ملے۔ چاہے وہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ ہوں یا اس کے خلاف، دل و جان سے اس کی خدمت کرتے ہیں۔ اور کیونکہ وہ خود کو وقت کے مطابق ڈھال لینے کو اپنی قابلیت اور طاقت نا کہ سیاسی مفاد پرستی سمجھتے ہیں، اس لیے ان کے لیے نا صرف اپنے اہداف کا تعین کرنا آسان ہوتا ہے بلکہ وہ پوری دلجمعی سے اسے حاصل کرنے میں لگ جاتے ہیں۔

واشنگٹن پہنچتے ہی باوجود اس کے کہ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ یا وسائل نہیں تھے، انہوں نے امریکی انتظامیہ میں بینظیر بھٹو کی سیاسی ساکھ بحال کرنے میں دن رات صرف کر دیے۔ امریکہ اور امریکہ سے باہر کی دنیا میں بینظیر بھٹو کو ایک سیاسی رہنما سے بڑھ کر ایک پرمغز سیاسی مفکر کے طور پر پیش کرنے کی سعی میں ان کی کتاب کی تحریر و تکمیل میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

مشرف حکومت کو پاکستان پیپلز پارٹی کے قریب لانے میں واشنگٹن سے جتنا بھی غیر رسمی دباؤ ڈلوایا جا سکتا تھا اس سے کہیں بڑھ کر ڈلوایا۔ پھر سفیر بنے اور انتہا پسندی سے متعلق پاکستان کی پر پیچ اور بسا اوقات ناقابل فہم پالیسیوں کو ایک قابل قبول لبادے میں ڈھانپے رکھنے کی کوشش کی۔

اگر پاکستان میں ریاستی اختیارات پر رسہ کشی کی بات ہوئی تو ہمیشہ سیاسی حکومت کا نقطء نظر بیان کیا۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے پاکستان کی فوجی قیادت کو شاید ناخوش ضرور کیا لیکن کبھی بھی حد سے زیادہ نروس نہیں ہونے دیا۔

اور یہ سب کچھ کرنے میں انہیں جتنے بھی روپ بدلنے پڑے، انہوں نے بلا جھجھک بدلے۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا کرنے میں ان کے ماضی کا تجربہ بہت کام آیا ہو گا جو کٹر مذہبی جماعتوں کی سیاسی تشہیر اور انتخابی پلاننگ سے لے کر بینظیر بھٹو جیسی شخصیت کے قریبی سیاسی مشیر ہونے تک پھیلا ہوا تھا۔ جس مہارت سے انہوں نے اس نظریاتی خلیج کی دونوں جانب اپنا سیاسی سفر جاری رکھا اس کی وجہ سے حسین حقانی کے بارے میں شاید ہی کوئی یقین سے کہہ سکے کہ کسی بھی معاملے پر ان کے حقیقی ذاتی نظریات یا رائے کیا ہے۔

ان کے مقابلے میں شیری رحمان ایک قطعی مختلف شخصیت کی مالک ہیں۔ وہ جو ہیں، نظر آتی ہیں اور جو نظر آتی ہیں وہی ہیں۔ ان کی نظریاتی سمت بھی واضح اور غیر مبہم ہے۔ لگ بھگ چودہ سال قبل پہلی بار جو سیاسی جماعت اپنائی آج بھی اسی کی ہیں۔ وزارت پائی ضرور لیکن جب یہ محسوس کیا کہ اس میں دوسرے وزراء دخل اندازی کر رہے ہیں اور انہیں روکنا ممکن نہیں تو مستٰعفی ہو کر پارٹی کی پارلیمانی رکن کے طور پر مصروف کار ہو گئیں۔

اپنے نظریات کا کھل کر اظہار کرنے اور ان کے دفاع سے گھبراتی نہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے کالے دور میں کراچی کے ایک ایوننگر ’سٹار‘ کے ہفت روزہ رسالے کی مدیر مقرر ہوئیں تو جنرل ضیاء کی کڑی سنسرشپ کے باوجود ان پر سخت تنقید کرنے والے لکھاری اکٹھے کیے۔ ماہنامہ ہیرالڈ کی مدیر بنیں تو یہی پالیسی جاری رکھی۔

شاید یہی وجہ تھی کہ صحافت میں دس برس سے زیادہ گزارنے کے بعد اس شعبے میں کمایا ہوا نام انہیں سیاست میں لے آیا۔ لیکن صحافت اور سیاست کبھی بیک وقت نہیں کی۔ اور سیاست میں بھی اپنا رویہ وہی رکھا جو صحافت میں تھا۔

معاملہ خواتین کے حقوق کا ہو یا متنازع قوانین کا، جو سمجھا وہی کہا۔ اگر سیاسی مصلحت کی بنا پر کھل کر بات نہ کر پائیں تو ایسے ہر مسئلے پر انٹرویو کے بعد انتہائی بیزاری سے کہہ دیتیں کہ ’مجھ سے کیوں یہ بکواس کروا رہے ہیں آپ‘۔

ان کے اکاون برسوں میں سے متعدد انتظامی ذمہ داریوں میں گزرے۔ ان کے وزیر اطلاعات کے دور میں ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کے آس پاس یا تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی قابلیت سے ان کا دل موہ لیتے ہیں یا وہ جن کے دل ان کے غصے کے سامنے لرزتے ہیں۔

کیا ایسی شخصیت سفارتکاری میں کامیاب ہو گی؟ اور وہ بھی ایک ایسی نوکری میں جسے واشنگٹن میں موسٹ ڈفیکلٹ جاب کہا جاتا ہے؟

حسین حقانی ایک نہایت ذہین اور محنتی شخص تھے۔ شیری رحمان شاید کبھی بھی خود کو ایسی صورتحال میں نہ پائیں کہ پاکستانی لبرلز کے جاگنے سے قبل ہی وہ اپنا تمام کام سمیٹ کر کل کی سوچ رہی ہوں۔ لیکن ان میں ایک ایسی خصوصیت ضرور ہے جو شاید حسین حقانی میں نہیں تھی۔ یہ ان کی شخصیت کی شفافیت ہے یعنی جو نظر آتی ہیں وہی ہیں۔

اس وقت یہ تو معلوم نہیں کہ ان کی شخصیت کی شفافیت سفارتکاری کے میدان میں چمک پاتی ہے یا نہیں، لیکن پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت ہو یا اعلٰی امریکی اہلکار، ہر کوئی شیری رحمان سے اس اعتماد سے ضرور ڈیل کر سکتا ہے کہ وہ جو ہیں، وہ نظر آتی ہیں۔