سپریم کورٹ: خواجہ سراؤں کو ووٹ کا حق

سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو خواجہ سراؤں کے ووٹ کے اندراج کے لیے ہدایات جاری کی ہیں اور متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں دو ہفتوں میں رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

عدالت نے خواجہ سراؤں سے کہا ہے کہ وہ وراثت میں اپنا حصہ لینے کے لیے اپنے کلیم فارم متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے دفاتر میں جمع کروائیں۔ سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے ریکارڈ کے مطابق اس وقت پورے ملک میں رجسٹرڈ خواجہ سراؤں کی تعداد اسی ہزار سے زیادہ ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ ووٹ کے اندراج کے بعد پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواجہ سرا عام انتخابات یا ضمنی انتخابات میں اپنے پسندیدہ اُمیدوار کو اپنا ووٹ ڈال سکیں گے۔

بھارت میں خواجہ سراؤں کو ووٹ کا حق حاصل ہے اور صوبائی حکومتوں میں اُن کی نمائندگی بھی رہ چکی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈ بنانے کے لیے کی جانے والی کارروائی موثر طریقے سے نہیں کی جارہی ہے جس پر چیف جسٹس نے نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کے حکام کو ہدایت کی کہ شناختی کارڈ کے اجراء کے عمل میں تیزی لائی جائے۔

چاروں صوبائی حکومتوں کی طرف سے خواجہ سراؤں کی دوبارہ آبادی کاری اور اُن کے کیے جانے والے فلاحی کاموں سے متعلق رپورٹ بھی عدالت میں پیش گئیں۔ سندھ حکومت کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ سراؤں کے رہائشی مسائل کے حل کے سلسلے میں صوبائی حکومت نے ایک جگہ مختص کی ہے جہاں پر اُن کے لیے کالونی بنائی جائے گی۔

چیف جسٹس نے دیگر صوبوں کی نمائندگی کرنے والے وکلاء کو سندھ حکومت کی طرز پر خواجہ سراؤں کی فلاح و بہود کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت بارہ دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو خواجہ سراؤں کو مناسب نوکریاں دینے کے بارے میں بھی ہدایات جاری کر رکھی ہے۔

ملکی بینکوں سے اربوں روپے کا قرضہ لیکر واپس نہ کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ ان قرضوں کی واپسی کے لیے خواجہ سراؤں کی خدمات بھی حاصل کی جائیں۔

خواجہ سراؤں کی تنظیم کے سربراہ الماس بوبی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ووٹ کے اندراج کا کریڈٹ پاکستان کے چیف جسٹس کو دیا اور کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو عدالت عظمٰی کے احکامات پر من وعن عمل درآمد کرنا چاہیے۔