پاکستان میں پولیو کے تریسٹھ نئے کیسز

پولیو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپولیو سے زیادہ کیسز صوبہ بلوچستان میں رپورٹ ہوئے۔

بچوں کے عالمی ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پولیو کے تریسٹھ نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس میں صوبہ بلوچستان سرِفہرست ہے۔

یونیسیف کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق بلوچستان میں رواں برس پولیو کے بائیس کیسز سامنے آئے ہیں اور تین نئے اضلاع خضدار، نوشکی اور کوہلو میں پہلی بار پولیو کے کیسز کی نشاندہی ہوئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں بیس کیسز، سندھ میں چودہ، خیبر پختونخواہ میں چھ اور گلگت بلتستان میں ایک پولیو کا کیس سامنے آیا ہے جبلہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب نے پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق تنظیم کے ریجنل ڈائریکٹر ڈینیئل ٹُول نے اپنے بیان میں کہا کہ ’پولیو کے دو قطرے ہر ایک بچے تک پہنچانا پاکستان میں بہت بڑا چیلینج ہے اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے پختہ ارادہ ہی پاکستان نے پولیو کا خاتمہ کر سکتا ہے‘۔

ان کے مطابق پاکستان سے پولیو کا خاتمہ اس صورت میں ہو سکتا ہے جب ہر بچے کو پولیو کی ویکسین کے دو قطرے پلائے جائیں اور ایسا پُرخطر اور دور دراز کے علاقوں میں بھی ممکن ہو۔

یونیسیف نے بتایا کہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم انیس سے اکیس ستمبر تک ہوگی جس میں تقریباً ایک کروڑ پینسٹھ لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

بلوچستان کے پولیو کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ایوب کاکڑ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس سال پشین میں سات، قلعہ عبداللہ میں سات، خضدار میں دو، نوشکی میں تین، کوئٹہ میں دو اور کوہلو میں ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا ہے۔

ان کے مطابق کوہلو، نوشکی، اور خضدار میں گزشتہ سالوں میں کبھی بھی پولیو کے کیسز سامنے نہیں آئے تھے اور اسی سال ان علاقوں میں پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

پولیو کے نئے کیسز سامنے آنے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ایوب کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کے پشتون علاقوں میں لوگ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے گریز کرتے ہیں جس میں پشین اور چمن کے علاقے شامل ہیں۔

قبائلی علاقوں میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے رسائی حاصل نہیں
،تصویر کا کیپشنقبائلی علاقوں میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے رسائی حاصل نہیں

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا زیادہ تر علاقہ قبائلی ہے جہاں پانچ سے دس خاندان ایک قلعہ نما مکان میں رہتے ہیں اور مرد حضرات دن کو اپنے کاموں نے نکل جاتے اور گھر میں صرف خواتین ہوتی جس کی وجہ سے پولیو ٹیم کی کم عمر بچوں تک رسائی نہیں ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے کچھ ایسے علاقے ہیں جہاں پولیو کی ٹیموں کی رسائی نہیں ہوتی ہے جس میں ڈیرہ بگٹی اور کوہلو شامل ہیں وہاں پاکستانی فوج کی مدد سے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔

ان کے مطابق بلوچستان میں پولیو کی ایمرجنسی مہم انیس سے اکیس اگست تک شروع ہوگی اور ان علاقوں پر زیادہ توجہ دی جائے گی جہاں خطرہ بہت زیادہ ہے۔

نامہ گار عزیز اللہ خان کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ میں اس سال اب تک اگرچہ صرف چھ بچوں میں پولیو کے وائرس پائے گئے ہیں لیکن دوسری جانب پولیو کے خلاف جاری مہم میں قطرے پلانے سے انکار کرنے والوں کی تعداد سولہ ہزار سے زیادہ ہے جبکہ بچوں کی عدم دستیابی کی شرح چالیس فیصد رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس سال اب تک پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے افراد کی تعداد سولہ ہزار سات سو سے زیادہ ہو گئی ہے لیکن ماضی کی نسبت اب بہتری آئی ہے۔گزشتہ سال پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کی تعداد تیئس ہزار کے لگ بھگ تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں جیسے بنوں اور صوبے کے کچھ دیگر اضلاع میں انھیں مسائل کا سامنا ہے لیکن صوبے میں کوئی علاقہ ایسا نہیں ہے جہاں تک ان کی ٹیم کو رسائی نہ ہو۔

غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ’پندرہ سے بیس فیصد بچوں تک پولیو کے خاتمے کے لیے قائم ٹیمیں پہنچ نہیں پاتیں اور چالیس فیصد بچے ایسے ہیں جن کے پاس ٹیمیں تو پہنچ جاتی ہیں لیکن وہ موقع پر دستیاب نہیں ہوتے جس وجہ سے وہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم رہتے ہیں‘۔

پولیو کے خاتمے کی مہم کے صوبائی سربراہ ڈاکٹر جانباز آفریدی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس سال خیبر پختونخواہ میں چھ بچوں میں پولیو کے وائرس پائے گئے ہیں جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد چوبیس تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس سال پشاور ، بنوں اور ضلع تور میں پولیو کے وائرس سے بچے متاثر ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پولیو کے خاتم کی مہم کے لیے مختلف طبقوں کے لوگوں کا تعاون حاصل کیا ہے جس سے انکار کرنے والے افراد کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم قبائلی علاقوں میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے رسائی حاصل نہیں ہے۔