’انتظامی بنیادوں پر نئےصوبوں کےحامی‘

حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم نون نے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے نلیے قومی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر کو مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں نئے صوبوں کے حوالے سے بنائی گئی چودہ رکنی کمیٹی نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق اپنی سفارشات پیش کی۔
تنظیم کے سینیئر رہنماء مشاہداللہ خان نے بی بی سی کے حفیظ چاچڑ سے بات چیت کرتے ہوئے نئے صوبوں کے حوالے سے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کی تفصیل بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی پارٹی انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی قیام کی حمایت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نئے صوبوں کی تشکیل کی حمایت کرتے ہیں اور اس مقصد کےلیے آئینی ترامیم اور وسائل کی تقسیم کے حوالے سے قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے اور اپوزیشن کی مشاورت سے قومی کمیشن بنایا جائے‘۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں نئے صوبوں کا قیام ایک بہت ہی سنجیدہ اور قومی مسئلہ ہے اور حکومت اس کو بڑی غیرسنجیدگی سے لے رہی ہے اور ان کی پارٹی سمجھتی ہے کہ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اس معاملے کو بڑی کی سنجیدگی کے ساتھ حل کیا جائے اور ایسے فیصلے کیے جائیں جس پر عمل درآمد ہو سکے اور یہ صرف پوائنٹ سکورنگ کےلیے نہیں ہونے چاہئیں اس لیے مسلم لیگ نون نے قومی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اجلاس میں کراچی کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی گئی ہے اور حکومت نے سندھ کے عوام کی قسمت کے فیصلے جس غیر ذمہ دارانہ انداز میں کیے ہیں وہ انتہائی توہین آمیز ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ حکمرانوں نے اقتدار کی بندر بانٹ میں سندھ کی تقسیم سے بھی گریز نہیں کیا ہے اور سندھ کے عوام کے مفادات کو اپنے اقتدار کی بھینٹ چڑھایا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







