’احکامات پر عملدرآمد کروانا آتا ہے‘

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چھ رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنچیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چھ رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی احکامات پر عملدرآمد میں ملک کا چیف ایگزیکٹو یعنی وزیراعظم بھی رکاوٹ بنے تو اُن سے بھی قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے نمٹا جا سکتا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس نے یہ ریمارکس حج انتظامات میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کے دوران اُس وقت دیے جب سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سہیل خان نے اس مقدمے کی تفتیش حسین اصغر کو سونپنے سے متعلق عدالت کو بتایا کہ سمری وزیراعظم کو بھجوائی گئی ہے لیکن وہاں سے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

عدلیہ اور موجودہ حکومت کے درمیان محاذ آرائی کی خبریں مقامی میڈیا کی زینت بن رہی ہیں۔ عدلیہ کا موقف ہے کہ حکومت عدالتی احکامات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی اور اُن پر عمل درآمد نہیں ہو رہا جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ تمام ادارے آئین میں دی گئی حدود میں رہ کر کام کریں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چھ رکنی بینچ نے منگل کے روز حج انتظامات میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی تو عدالت نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے استفسار کیا کہ کیا اُنہوں نے اس مقدمے کی سماعت کرنے والی ٹیم کو بحال کیا ہے تو اُنہوں نے بتایا کہ اس پر کام ہو رہا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت اپنے احکامات پر عمل درآمد کروانا بھی جانتی ہے۔ اُنہوں نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے کہا کہ اگر حسین اصغر کی اس مقدمے کے تفتیشی افسر کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہوا تو وہ توہین عدالت کی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر آج نوٹیفکیشن جاری نہ ہوا تو مذکورہ سیکرٹری کو جیل جانا پڑے گا۔

سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے سپریم کورٹ کے حکم پر حسین اصغر کو آئی جی گلگت بلتسان سے تبدیل کرکے وفاقی تحقیقاتی ادارے میں تعینات کر کے حج انتظامات میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے مقدمے کی تفتیش سونپ دی ہے۔

دوسری جانب حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کرنے پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو او ایس ڈی بنا دیا ہے۔ سہیل خان نے چھ جولائی کو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے عہدے کا چارج سنبھالا تھا اس سے پہلے وہ فیڈرل بورڈ اف ریونیو کے چیئرمین بھی رہ چُکے ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی صوبے کی پولیس کے سربراہ کی تعیناتی اور تبدیلی کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے اور حسین اصغر کے معاملے میں وزیر اعظم سے مشاورت نہیں کی گئی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حج انتظامات میں ہونے والی بدعنوانی سے ملک کی پوری دنیا میں بدنامی ہوئی ہے اور ابھی تک اس مقدمے میں پیش رفت نہیں ہوئی۔ اُنہوں نے کہا کہ تفتیشی ادارے اس میں ملوث بااثر افراد کے خلاف کارروائی کرنے سے گھبراتے ہیں۔

چیف جسٹس نے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے سربراہ کو اس مقدمے میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں عدالت کو آگاہ کرنے کے لیے بدھ کے روز عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔