سری لنکن ٹیم پر حملے کے ملزم کی ضمانت

سری لنکا ٹیم پر حملہ فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنتین مارچ دو ہزار نو کو لاہور میں قذافی سٹیڈیم سے کچھ ہی فاصلے پر سری لنکا کی ٹیم پر حملہ ہوا تھا

سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ کے الزام میں کالعدم تنظیم کے ملک اسحاق کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت نے ملزم کو رہائی کے لیے پانچ ، پانچ لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے ملک اسحاق پر لاہور میں سری لنکن کرکٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے اور لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کی تھی۔

تین مارچ دو ہزار نو لاہور میں قذافی سٹیڈیم سے کچھ ہی فاصلے پر لبرٹی چوک میں دہشت گردوں نے اُس بس پرحملہ کر دیا تھا جو سری لنکن ٹیم کے ارکان کو سٹیڈیم لے کر جا رہی تھی۔ اس واقعہ میں سری لنکن ٹیم کے سات کھلاڑی زخمی اور چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس ایم اے شاہد صدیقی اور جسٹس آصف سعید کھوسہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ملک اسحاق کے وکیل قاضی مصباح الحسن نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل انیس سو ستانوے سے جیل میں ہیں اور ان کے خلاف سری لنکن کرکٹ پر حملہ کی منصوبہ کے الزام میں مقدمہ درج ہے اور بقول وکیل کے یہ مقدمہ بدنیتی کی بنیاد پر درج کیاگیا تاکہ انہیں جیل میں قید رکھا جاسکے۔

وکیل کاکہنا ہے کہ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ ایک شخص جو ایک طویل عرصے سے جیل میں ہے وہ کس وسیلے یا ذریعے سے کرکٹ ٹیم پر حملے کی منصوبہ بندی کرسکتا ہے۔

ملزم کے وکیل قاضی مبصاح الحسن نے کہا کہ پولیس نے کوئی ایسے شواہد پیش نہیں کیے جس سے یہ ثابت ہو کہ ان کے موکل کا اس واقعہ میں کوئی کردار ہے۔

وکیل کا کہنا ہے کہ ملک اسحاق کا نہ تو اس واقعہ میں کوئی کردار ہے اور نہ ہی وہ براہ راست اس میں ملوث ہیں۔

وکیل کے بقول پولیس کی طرف سے پیش کردہ شواہد انتہائی کمزور ہیں اور پولیس کی تفتیش سے ملزم ملک اسحاق پر کرکٹ ٹیم پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ثابت نہیں ہوتا۔

عدالت کے روبرو سرکاری وکیل نے درخواست ضمانت کی مخالف کی اور کہا کہ ملک اسحاق کے خلاف تین گواہوں نے بیانات دیے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ اس مقدمہ میں ملوث ہیں۔

سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ مقدمہ کا چالان عدالت میں پیش کیا جاچکا ہے اس لیے ماتحت عدالت کو مقدمہ کی جلد سماعت کا حکم دیا اور درخواست ضمانت کو مسترد کردیا جائے۔

سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے سرکاری وکیل کی استدعا رد کرتے ہوئے ملزم اسحاق کی ضمانت منظور کرلی۔

ملک اسحاق کے وکیل قاضی مصباح الحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم کے خلاف چوالیس مقدمات درج تھے جس میں دو مقدمات میں ان کے اقبالی بیان پر سزا سنائی جبکہ پیتیس مقدمات میں وہ بری ہوچکے ہیں اور ایک مقدمے میں ان کو ڈسچارج کردیا گیاہے۔

وکیل کے مطابق ملک اسحاق کے خلاف ابھی چھ مقدمے زیر سماعت ہیں اور ان مقدمات میں ان کی ضمانت ہوچکی ہے اس لیے اب ان کی رہائی مکمن ہوسکتی۔