کیا پاکستان کے جوہری اثاثے محفوظ ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, جوناتھن مارکس
- عہدہ, بی بی سی، نامہ نگار سفارتی و دفاعی امور
کراچی میں پاک بحریہ کی مہران بیس پر شدت پسند حملے کو حساس فوجی تنصیبات پر انتہائی مہارت سے کیا جانے والا حملہ سمجھا جا رہا ہے۔
امریکہ کی طرف سے پاکستان کو فراہم کیے جانے والے بحری نگرانی کے طیاروں اورین بی تھری سی کو بھی مہران بیس پر رکھا جاتا ہے۔ اس حملے میں ان طیاروں میں سے کم از کم دو طیارے تباہ ہو گئے۔
چند امریکہ کنٹریکٹرز اور چینی انجینئروں کی قلیل تعداد بھی حملے کے وقت بیس پر موجود تھی۔ امریکی اور چینی انجینئروں کی موجودگی پاکستان کی فوجی دھڑے بندی میں پائے جانے والے متضاد رحجانات کو ظاہر کرتی ہے۔
اس حملے کو اگر پاکستانی طالبان کی طرف سے اب تک کیے جانے والے حملوں کے معیار پر بھی دیکھا جائے تو یہ ایک دلیرانہ حملہ قرار دیا جا سکتا ہے اور اس سے بیس کی سکیورٹی کے بارے میں مختلف طرح کے تکلیف دہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
کیا پاکستان میں حساس مقامات کی سکیورٹی کا معیار گِر گیا ہے؟ کیا شدت پسندوں کی طاقت کے بارے میں غلط اندازہ لگایا گیا؟ اس حملے کے بعد پاکستان کے جوہری اثاثے تو درکنار دیگر حساس تنصیبات کی سکیورٹی کے بارے میں کیا اندازہ لگایا جا سکتا ہے؟
پاکستان کی حساسیت
پاکستان کی جوہری طاقت کے بارے میں مصدقہ طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ تاہم ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے پاس ستر سے نوے تک جوہری ہتھیار موجود ہیں اور یہ اپنی صلاحیت میں مسلسل اضافے میں مصروف ہے۔ اس میں ان ہتھیاروں کے لے جانے کے لیے نئے نئے میزائلوں کی تیاری اور اپنے جوہری ذخیرے میں مزید اضافے کے لیے ایندھن پر کام شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے جوہری اثاثوں کے محلِ وقوع کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان ہتھیاروں کو مختلف مقامات پر رکھا گیا ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ان ہتھیاروں کے مختلف حصوں کو علیحدہ علیحدہ جگہوں پر سٹور کیا گیا ہے۔
امریکہ نے پاکستان کو اپنے جوہری ہتھیاروں کو محفوظ بنانے میں مدد کی پیش کی ہے۔ تاہم اس پیش کش کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا جس کی وجہ شاید پاکستانیوں کے لیے اس معاملے کی حساس نوعیت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
در حقیقت یہ بات قابلِ غور ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے ہونے والی امریکی کارروائی کے بعد پاکستان میں وسیع پیمانے پر اس بات پر تبصرہ کیا گیا کہ امریکہ کس آسانی سے کارروائی کرنے میں کامیاب ہوا۔
ان تبصروں میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ اگر امریکی فوج یہ کچھ کر سکتی ہے تو کیا وہ ایک ایسی ہی کارروائی کے ذریعے پاکستان کے جوہری اثاثوں پر قبضہ نہیں کر سکتی؟
یہ بات شاید قرین قیاس نہ ہو لیکن اس سے ان شکوک وشبہات کا پتہ چلتا ہے جو پاکستان اور امریکہ کے مابین پائے جاتے ہیں۔
تشویش کی وجہ
اب تک امریکی حکام جوہری اثاثوں کے محفوظ ہونے کے بارے میں پاکستان کی یقین دہانیوں کو، بے شک کھلے عام ہی سہی، قبول کرتے رہے ہیں۔
لیکن جیسے جیسے ملک میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ایسے ہی واشنگٹن کی تشویش بھی بڑھی ہے۔

گزشتہ مئی آرمز کنٹرول ٹوڈے کے ساتھ ایک انٹرویو میں وائٹ ہاؤس میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معلامات کی نگرانے کرنے والے امریکی عہدیدار گیری سیمور نے تسلیم کیا تھا کہ پاکستان اپنے جوہری اثاثوں کی سکیورٹی کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے اور اس نے اپنے جوہری تنصیبات، مواد اور ہتھیاروں کو محفوظ بنانے کے لیے بہت زیادہ وسائل استعمال کیے ہیں۔
تاہم انہوں نے اس طرح اپنی تشویش کا کھل کر اظہار کیا ہے: ’لیکن مجھے اس سلسلے میں جو تشویش ہے وہ یہ ہے پاکستانی سوسائٹی میں جس پیمانے کی کشیدگی اور مسائل پائے جاتے ہیں ۔۔۔ ان میں بہترین سے بہترین جوہری سکیورٹی بھی جواب دے جائے۔‘
پاکستان کی نیوکلیئر سکیورٹی کو بہتر بنانے کا ایک راستہ جوہری عدم پھیلاؤ کا سفارتی فرنٹ ہے جس کے تحت پاکستان کو مزید ہتھیاروں کی تیاری اور جوہری مواد کی پیداوار روکنا ہو گی۔
لیکن بظاہر انڈیا اور پاکستان دونوں ہی اس سلسلے میں پیش رفت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سلسے میں اگر انڈیا کو زیرِ غور لایا گیا تو چین کو بھی اس معاملے میں شامل کرنا ہو گا۔
ابھی تک پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو مادی لحاظ سے محفوظ بنانے کے سلسلے میں پاکستان کی کوششیں متاثر کن رہی ہیں۔ لیکن اب بھی تشویش کی کئی وجوہات موجود ہیں:
پہلی تشویش یہ ہے کہ پاکستان کی زیادہ تر جوہری تنصیبات یہ تو شدت پسندوں کے زیرِ اثر علاقوں کے قریب ہی واقع ہیں۔ جب یہ تنصیبات تعمیر کی گئی تھیں تو پہلی ترجیح یہ تھی کہ انہیں انڈیا کی سرحد سے دور رکھا جائے۔
دوم یہ کہ مبصرین کے خیال میں پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلقہ چند تنصیبات پر پہلے ہی حملے ہو چکے ہیں۔ ان میں سرگردھا میں واقع جوہری مواد ذخیرہ کرنے کے لیے بنائی جانے والی ایک عمارت جس کو نومبر سن دو ہزار سات میں نشانہ بنایا گیا اور واہ کینٹ جہاں اگست دو ہزار آٹھ میں حملہ کیا گیا۔
سوم یہ کہ ملازمین کی چھان بین کرنے کے سلسلے میں بہترین کوششوں کے باوجود یہ امکان موجود ہے کہ شدت پسند خیالات رکھنے والے کچھ عناصر سکیورٹی فورسز اور محافظوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کی جوہری تنصیبات کی سکیورٹی سے متعلق تشویش رکھنے والوں کے لیے کراچی میں مہران بیس پر حملے اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کے اندر موجود شدت پسند روز بروز بے خوف ہو رہے ہیں۔







