پختونخوا میں گندم کی ریکارڈ پیدوار

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ خیبر پختونخوا میں اس سال گندم کی اچھی فصل ہوئی ہے لیکن پھر بھی پنجاب سےگندم یا آٹا خریدا جائے گا لیکن فلور ملز مالکان کے مطابق صرف ایک سے ڈیڑھ لاکھ ٹن گندم ہی منڈی میں فروخت کے لیے لائی جاتی ہے باقی کسان ذاتی استعمال کے لیے رکھ لیتے ہی۔
پشاور میں فلور ملز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین نعیم بٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہمیں اس سال ایک اندازے کے مطابق کوئی گیارہ لاکھ ٹن گندم کی پیداوار ہوئی ہے جو ماضی کی نسبت زیادہ ہے لیکن اکثر کسان گندم منڈیوں میں نہیں لاتے اس لیے حکومت کو صوبہ پنجاب سے گندم خریدنی پڑتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ دوسرا سال ہے کہ صوبائی حکومت اپنے کسانوں سے اچھے نرخ پرگندم خرید رہی ہے جس سے زمیندار اب گندم کی کاشت کو ترجیح دیتے ہیں۔
نعیم بٹ کے مطابق افغانستان گندم کی سمگلنگ کا الزام اس وقت لگایا جاتا ہے جب حکام کی غلط پالیسیوں کی وجہ سےگندم کی کمی پیدا ہو جاتی ہے حالانکہ کےحکومت نے خود ملک بھر سے کوئی تیس لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان گندم کا آٹا جاتا ہے جس کی مقدار چھ لاکھ ٹن سے زیادہ نہیں ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ افغانستان گندم کا آٹا پنجاب کی ملوں سے زیادہ اور خیبر پختونخواہ کی ملوں سے کم جاتا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخواہ میں کسان اتحاد کے سربراہ جانثار افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ سال آئے سیلاب کے اثرات گندم کی فصل پر اس سال اچھے پڑے ہیں اور ان کے اندازے کے مطابق اس مرتبہ پچاس فیصد تک گندم کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر کسان کو گندم کی اچھی قیمت ملے تو وہ گندم منڈی میں ضرور لاتا ہے جس سے کسان کا فائدہ ہے۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ صوبائی حکومت نے گزشتہ سال کی قیمت برقرار رکھی ہے حالانکہ کھاد اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہو چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







