’تنصیبات کی محفوظ مقامات پر منتقلی‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نعمان بشیر نے کہا ہے کہ کراچی میں بحریہ کی تنصیبات کو رہائشی علاقوں سے دور کسی محفوظ جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
کراچی میں ایک نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈمرل نعمان بشیر نے کہا کہ’ہم بحریہ کی بیس اور دیگر اہم تنصیبات کو رہائشی علاقوں سے دور منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
واضح رہے کہ بحریہ کے سربراہ نے کراچی میں نیوی کی بیس پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی مکمل ہونے کے بعد یہ نیوز کانفرس کی ہے۔
<link type="page"><caption> کراچی: دہشت گردوں کے خلاف’آپریشن مکمل‘ تیرہ اہلکار ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/05/110523_karachi_naval_base_op_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> نیوی بیس پر شدت پسندوں کا حملہ: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/05/110523_pak_navy_attack_pics_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق ایڈمرل نعمان بشیر نے کہا کہ پرہجوم رہائشی علاقوں کی وجہ سے بحریہ کی تنصیبات کی موثر سکیورٹی مشکل ہو رہی ہے۔ ’جب ان تنصیبات کی منصوبہ بندی کی گئی تھی تو اس وقت یہ شہر سے دور تھیں لیکن بیس کے ارد گرد شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا جس کی وجہ سے یہ آبادی کے بیچ میں آ گئی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ آبادی سے دور بحریہ کا ایک بیس اور ایوی ایشن کا بیس تیار کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بحریہ کی بیس پر شدت پسندوں کے حملے کے وقت گیارہ چینی اور چھ امریکی انجینئیر موجود تھے، جنھیں وہاں سے ریسکیو کر کے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ حملے کا نیوی کمانڈوز نے تین منٹ کے اندر جواب دیا لیکن حملہ آور انتہائی تربیت یافتہ اور ان کے پاس آر پی جی لانچر جیسے جدید ہتھیار تھے۔
بحریہ کے سربراہ کے مطابق پندرہ کے قریب حملہ آور بیس کی مغربی سمت سے داخل ہوئے اور انھوں نے نگرانی کے پی سی تھری اورین طیاروں پر آر پی جی سے حملہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ دو حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جب کہ متعدد حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس وقت حراست میں ہیں۔
ایڈمرل نعمان بشیر کے مطابق نیوی کے کمانڈوز نے فوج، رینجرز اور پولیس کی مدد سے کارروائی مکمل کی ہے۔
’اس کارروائی میں نیوی کے ایک افسر، تین فائر مین سمیت دس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ان کا کارروائی کے دوران صدر زرداری، وزیراعطم گیلانی، جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی،فوج اور فضائیہ کے سربراہان اور دیگر سربراہوں سے رابط رہا۔







