ایم کیو ایم حقیقی کے رہنما عامر خان رہا

عامر خان

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنعامر خان کو دوہزار چار میں گرفتار کیا گیا تھا

مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کے رہنما عامر خان کو رہا کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں اور وہ ان کے گھر پہنچا دیاگیا ہے۔

اس سے پہلے نو مئی کو سندھ ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کر لی تھی تاہم انہیں فوراً نقصِ امن کے قانون کے تحت سینٹرل جیل میں نظربند رکھا گیا تھا۔

ایم کیو ایم حقیقی کے کارکنوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ رہنما عامر خان کے رہائی کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عامر خان ملیر کینٹ میں واقع اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

اس سے قبل ان کی رہائی کو سکیورٹی خدشات کے باعث خفیہ رکھا گیا تھا۔

عامر خان کو لانڈھی میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے موقع پر پولنگ کیمپ میں موجود متحدہ قومی موومنٹ کے دو کارکنان کے قتل کے الزام میں ماتحت عدالت نے 10 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی، جسے عدالتِ عالیہ نے معطل کرتے ہوئے عامر خان کو دس لاکھ روپے کی ضمانت پر رہا کر نے کا حکم دیا تھا۔

عامر خان کو دوہزار چار میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی گرفتاری کے بعد ان کی تنظیم کے مرکزی دفتر بیت الحمزہ کو بھی مسمار کردیا گیا تھا۔ اپریل دو ہزار چار میں عامر خان اور آفاق احمد کو ٹرائل کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کے رہنما عامر خان اور آفاق احمد جو متحدہ قومی موومنٹ کے ایک کارکن کے قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے جب ان کی سزاؤں کی اپیل کی سماعت کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے ان دونوں کی سزائیں معطل کرتے ہوئے دس دس لاکھ روپے کی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ میں پولیس فائل نہ ہونے کے سبب مہاجر قومی موؤمنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کی درخواست ضمانت کی سماعت اٹھارہ اگست تک ملتوی کردی گئی ہے۔

آفاق احمد پر الزام ہے کہ انہوں نے 1992 میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن فاروق کو قتل کیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ میں آفاق احمد پر غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے ایک مقدمے کی سماعت جج کی تعطیل کے سبب انیس اگست تک ملتوی کردی گئی ۔

اس مقدمے میں ان پر الزام ہے کہ لانڈھی پولیس نے ان کی تحویل سے غیر قانونی اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا تھا۔