ہمالیہ سر کر لیا

ایک وادی کے رہنے والے نے پہاڑوں کو سر کرنے کے خواب دیکھے۔
اڑتالیس سالہ حسن سدپارہ کی پیدائش سکردو شہر سے آٹھ کلومٹر دور سدپارہ جھیل کے پاس ایک گاؤں میں ہوئی، جہاں نہ سکول تھے اور نہ ہی ہسپتال۔
اس موحول میں پرورش پانے والے، حسن سدپارہ، بارہ مئی سال دو ہزار گیارہ، مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے، دنیا کے سب سے بلند پہاڑ ماؤنٹ ایوریسٹ کی چوٹی تک پہنچے۔
نیپال میں کوہ ہمالیہ کے بیس کیمپ واپس پہنچنے پر، بی بی سی کی نامہ نگار عنبر شمسی سے حسن نے بات کرتے ہوئے چوٹی پر پہنچ کر اپنے تاثرات کے بارے میں بتایا۔
’مجھے جس مشکل کا سامنا کرنا پڑا وہ موسم کی خرابی تھی اور برف باری تھی۔ ہوائیں بہت تیز تھیں۔اس وجہ سے مجھے ایک جگہ سے تو واپس ہونا پڑا تھا۔ لیکن میں نے تہیہ کیا کہ پاکستان کا پرچم چوٹی پر لہرائے بغیر نیچے نہیں اتریں گے۔ زندگی اور موت تو اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔‘
اس طرح، حسن سدپارہ وہ دوسرے پاکستانی ہیں جنہوں نے ہمالیہ کو سر کیا۔
لیکن حسن نے اس تاثر کو رد کردیا کہ انہوں نے یہ کارنامہ آکسیجن کے بغیر سرانجام دیا۔
’میرا اراداہ تو آکسجین کے بغیر چوٹی تک پہنچنے کا تھا، لیکن خراب موسم اور دو دو فٹ برف کی وجہ مجھے آکسیجن کا استعمال کرنا پڑا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل، حسن نے پاکستان کے آٹھ ہزار فٹ سے بھی زیادہ بلند پہاڑوں کو بغیر آکسیجن کے سر کیا ہے۔ بلکہ حسن کے بقول، ننگا پربت، جسے ’کلر ماؤنٹین‘ یا کوۂ مردار بھی کہتے ہیں، اور ’کے ٹو‘ کو سر کرنے میں انھیں زیادہ دشواری پیش آئی تھی۔
’سب سے مشکل پہاڑ تو نانگا پربت اور پاکستان کا بلند ترین چوٹی کے ٹو تھے۔ اگر موسم صاف ہوتا تو ایوریسٹ تو آسان تھا‘۔

حسن نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہمالیہ کی چوٹی کو سر کرنے کے دوران، ان کے ایک ساتھی کوہ پیما انتقال کر گئے۔’کیمپ فور (جو چوٹی سے پہلے آخری کیمپ ہے) سے تھوڑا آگے ایک جاپانی انتقال کر گئے تھے۔ کسی ساتھی کا اتنی اونچائی پر انتقال ہو تو بہت زیادہ افسوس ہوتا ہے‘۔
ان کے آبائی گاؤں سدپارہ میں کوئی سکول تو نہیں ہے اور حسن نے جو بھی حاصل کیا وہ بغیر تعلیم اور وسائل کے کیا۔ اپنے بچوں کے لیے وہ ایک مختلف مستقبل دیکھتے ہیں۔ ’میری بدقسمتی تھی کہ میں ان پڑھ رہا، کیونکہ ہمارا گاؤں اتنا پسماندہ ہے۔ میں اپنے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے لئے استاد کرائے پر سکردو سے بلایا ہے تاکہ وہ پڑھے لکھے ہوں‘۔
دنیا کے سب سے انونچے پہاڑ کو تو پار کر لیا، لیکن اب حسن کی اگلی کیا منزل ہو گی؟ ’میں نے چھ پہاڑ تو سر کر لیے ہیں۔ اب اگر حکومتِ پاکستان میرے ساتھ تعاون کرے تو میں نیپال میں آٹھ اور پہاڑوں کو سر کروں گا۔‘
چھ ہوں یا چودہ، حسن کی اس امید سے اقبال کا یہ مصرعہ یاد آتا ہے ’ تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر‘۔







